انڈیا میں ونگ کمانڈر ابھینندن کی مونچھوں کا سٹائل فیشن بن گیا

ایک زمانے میں بالی وڈ اداکار امیتابھ بچن کی فلم ’شرابی‘ کا ڈائیلاگ ’مونچھیں ہوں تو نتھو لال جی جیسی ورنہ نہ ہوں۔۔۔‘ انڈیا میں خاصا مقبول ہوا تھا۔

کسی کی مونچھوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے لوگ اکثر نتھو لال کا ذکر کرتے ہیں تاہم ان دنوں پاکستان سے رہا ہو کر واپس آنے والے انڈین پائلٹ ابھینندن جیسی مونچھوں نے انڈیا میں دھوم مچا رکھی ہے۔

ابھینندن کی مونچھیں انڈیا میں ایک ’فیشن سٹیٹمنٹ‘ بن گئی ہیں اور لوگ حجاموں کے پاس جا کر ویسی ہی مونچھیں بنوا رہے ہیں۔

گذشتہ دنوں پاکستانی فوج نے ابھینندن کے جنگی طیارے کو گرا کر انھیں حراست میں لے لیا تھا۔ اس واقعے کے کچھ ہی دیر بعد وہ انڈین سوشل میڈیا پر قومی ہیرو کے طور پر ابھر کر سامنے آئے۔ ان کی مونچھوں کے سٹائل کو بہادری کی نشانی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یہ بھی پرھیے

انڈین ڈیری برانڈ امول جو سوشل میڈیا کے لیے اپنے مختلف اشتہارات بناتا ہے، اس نے پائلٹ ابھینندن کی مونچھوں پر ایک خاص ویڈیو بنایا ہے۔

حالانکہ مونچھوں کا ہینڈل بار سٹائل انڈیا کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ بالی وڈ فلموں میں بدمعاش، فوجی اور غیر قانونی کام کرنے والے کردار اکثر اس طرح کی مونچھوں میں نظر آ جاتے ہیں۔

لیکن گذشتہ چند دنوں میں اس انداز کی مونچھوں کے بارے میں خیالات میں تبدیلی آئی ہے۔ اب ان مونچھوں کو حب الوطنی اور بہادری کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

انڈین شہر بنگلورو کے ایک ہیئر سیلون نے پیر کے روز ان افراد کے مفت میں بال کاٹے اور مونچھیں بھی بنائیں جو ابھینندن کی طرح دکھائی دینا چاہتے تھے۔

بی بی سی ہندی سروس کے عمران قریشی کو سیلون کے مالک ننیش ٹھاکر نے بتایا کہ ’ابھینندن نے ہمارے ملک کے لیے بہت کچھ کیا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ مجھے ہر چہرے کو ان کے جیسے بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔‘

لیکن صرف تین لوگوں نے ہی ان سے ابھینندن جیسی مونچھیں بنوائیں۔

ان میں سے ایک تیجس چوہدری نے کہا کہ وہ ایسا ونگ کمانڈر ابھینندن کے لیے کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’انھوں نے ملک کے لیے کتنا کچھ کیا ہے، کیا میں ان کے لیے اتنا بھی نہیں کر سکتا؟‘

ابھینندن جیسی مونچھیں بنوانے والے نوین کمار ایک ایمبولینس ڈرائیور ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ’ابھینندن اصل ہیرو ہیں، اس لیے میں ان کے جیسی مونچھیں بنوا رہا ہوں۔‘

اور بھی بہت سے لوگ ہیں جو ابھینندن جیسی مونچھیں بنوانا چاہتے ہیں۔ ٹھاکر نے کہا کہ ان کی مونچھیں ابھی اتنی بڑی نہیں ہیں کہ وہ انھیں ابھینندن کے سٹائل میں بنوا سکیں۔ چند افراد ایسے بھی ہیں جنھوں نے فوجی ہیئر کٹ بنوایا ہے۔

ملک بھر کے مختلف حصوں سے لوگوں نے سوشل میڈیا پر اپنی مونچھوں والی تصاویر پوسٹ کی ہیں اور کہا کہ وہ ونگ کمانڈر ابھینندن سے متاثر ہیں۔

زیادہ تر انڈین شہریوں نے 27 فروری کو پہلی بار ابھینندن کو دیکھا تھا جب پاکستان کے وزارت اطلاعات نے ان کا ایک ویڈیو جاری کیا تھا۔ اس ویڈیو میں ابھینندن کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ اور ان کا چہرہ زخمی نظر آ رہا تھا۔ بعد میں اس ویڈیو کو ہٹا دیا گیا تھا۔

اس کے بعد ان کا ایک اور ویڈیو پوسٹ کیا گیا، جس میں وہ چائے کا کپ ہاتھ میں لیے ہوئے تھے۔ اس ویڈیو میں ان کی آنکھوں پر پٹی نہیں تھی اور ان کا چہرہ بھی صاف کر دیا گیا تھا۔

اس ویڈیو میں انھوں نے اپنا نام اور رینک بتانے کے ساتھ یہ بھی بتایا کہ ان کا تعلق جنوبی انڈیا سے ہے۔ اس سے زیادہ معلومات دینے سے انھوں نے انکار کر دیا تھا۔

یہ ویڈیو تیزی سے وائرل ہو گئی اور کچھ ہی دیر بعد انڈیا میں سوشل میڈیا پر BringBackAbhinandan#ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرنے لگا۔

جب پاکستان نے انھیں انڈین اہلکاروں کے سپرد کیا تو دلی سمیت ملک کے متعدد شہروں میں آتشبازی کی گئی اور جشن منایا گیا۔