آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
افغان طالبان: ’ہمیں مذاکرات کے لیے پاکستان جانے سے روک دیا گیا`
طالبان کی جانب سے اتوار کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور اقوامِ متحدہ نے طالبان کے وفد کو مذاکرات کے لیے پاکستان جانے سے روک دیا ہے کیونکہ اُن کے وفد کے نو اراکین اقوامِ متحدہ اور امریکی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے نمائندے جانے کے لیے آمادہ تھے اور تیاریاں بھی تھیں۔ بیان میں دورہ نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ نئی تاریخ طے کی جائے گی۔
بی بی سی افغان سروس کے مطابق اِس بیان کے جاری ہونے سے پہلے اتوار کو ہی طالبان کے ذرائع نے تصدیق کی تھی کہ طالبان کے رہنماؤں کا پاکستان کا دورہ معطل کر دیا گیا ہے۔ طالبان ذرائع نے بتایا کہ ان کے امیر ملا ہیبت اللہ کہتے ہیں کہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان سے ملنا اچھا نہیں ہو گا۔
یہ بھی پڑھیے
اس سے پہلے 13 فروری کو طالبان کا بیان سامنے آیا تھا جس میں کہا گیا کہ قطر میں ان کے سیاسی دفتر کے کچھ ارکان 18 فروری کو اسلام آباد جائیں گے اور زلمے خلیل زاد کی قیادت میں امریکی مذاکراتی ٹیم سے ملاقات کریں گے۔ یہ وہی امریکی ٹیم ہے جس سے قطر میں بھی طالبان کی کئی مرتبہ ملاقات ہو چکی ہے۔ طالبان کے بیان کے مطابق اس مرتبہ اسی سلسلے میں یہ ملاقات اسلام آباد میں ہو گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
13 فروری کو طالبان کے بیان میں کہا گیا کہ اسی دورے میں وہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان سے بھی ملیں گے اور پہلے کی طرح اس مرتبہ بھی طالبان کے رہنما شیر محمد عباس استانکزئی کی قیادت میں یہ ملاقات ہو گی۔
بی بی سی افغان سروس کے مطابق 15 فروری کو اقوامِ متحدہ میں افغانستان کے مستقل وفد کی جانب سے سکیورٹی کونسل کی کمیٹی 1988 کو خط لکھا گیا کہ طالبان کے نمائندوں کے اس دورے کے بارے میں افغان حکومت سے کوئی صلاح مشورہ نہیں کیا گیا ہے۔
خط میں یاد دہانی کروائی گئی کہ طالبان کے وفد میں شامل کم از کم نو افراد اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کی لسٹ میں ہیں۔ خود شیر محمد عباس استانکزئی پر بھی پابندیاں ہیں۔ اس کے علاوہ اِن افراد پر امریکی پابندیاں بھی ہیں۔ ان پابندیوں کے تحت ان کے بینک اکاونٹ منجمد ہیں اور یہ سفر نہیں کر سکتے۔
س سے پہلے قطر اور ماسکو جانے کے لیے طالبان نے پیشگی اطلاع دی تھی اور امریکہ اور اقوامِ متحدہ نے افغان حکومت سے مشورہ کے بعد جانے کی اجازت دی تھی۔ افغان حکومت کے مطابق وہ ہر مرتبہ اجازت دیتی ہے۔ افغان حکومت نے ماسکو جانے پر اعتراض کیا تھا لیکن ایسا دیر سے کیا گیا اور اتنی دیر میں طالبان کا وفد ماسکو پہنچ چکا تھا۔