بنگلہ دیش: غریب والد کا اپنی کفالت کے لیے بیٹے پر مقدمہ

بنگلہ دیش
،تصویر کا کیپشنطاہر کپڑے کی ایک چھوٹی سی دکان چلاتے تھے
    • مصنف, ورجینیا ہیریسن اور میر صابر
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

ابوطاہر کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا ہمیشہ سے ایک 'اچھا بچہ' تھا۔

ابو طاہر برسوں تک بنگلہ دیش کے اہم شہر چٹاگانگ میں کپڑے کی ایک چھوٹی سی دکان چلاتے رہے۔ انھوں نے اپنے بڑھاپے کے لیے کوئی رقم پس انداز نہیں کی تھی، اس لیے ریٹائرمنٹ کے بعد مالی امداد کے لیے بیٹے اور بیٹی پر انحصار کرنے پر مجبور ہو گئے۔

ابوطاہر کا کہنا ہے کہ 'میں نے اور میری بیوی نے اپنے بیٹے کو بڑی محنت اور مشقت سے پالا۔ لیکن وہ شادی کے بعد بدل گیا اور اس نے ماں باپ کا خیال کرنا چھوڑ دیا۔'

اپنی بیٹی سے مدد ملنے کے باوجود ابو طاہر مشکلات کا شکار رہے۔ 75 سالہ ابوطاہر کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ اپنی کفالت کے لیے اپنے بیٹے محمد شاہجہان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں۔

'یہ میرے لیے مشکل فیصلہ تھا۔ سب مجھے کافی عرصے سے مقدمہ درج کرنے کا کہہ رہے تھے مگر میں ایسا نہیں کرنا چاہتا تھا۔ میں نے مقدمہ اس وقت درج کروایا جب میرے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا۔'

لیکن محمد شاہجہاں تمام تر الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ کئی دہائیوں سے ان کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے۔ تاہم شاہجہان جو بینک ملازم ہیں ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کی مدد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کہ والد نے یہ مقدمہ انھیں ’بےعزت' کرنے کے لیے کیا ہے۔

والدین بمقابلہ اولاد

یہ خاندان کے ٹوٹنے کا ایک معاملہ ہے جو کہیں بھی ہو سکتا ہے لیکن ابوطاہر نے اس کا جو حل تلاش کیا ہے وہ ہر جگہ نہیں ہوتا۔

انھوں نے بنگلہ دیشی قانون کے تحت والدین کی کفالت کا مقدمہ درج کیا۔ یہ ایک ایسا قانون ہے جس کا والدین اپنے بچوں کے خلاف اس صورت میں استعمال کرتے ہیں جب وہ ان کی کفالت نہیں کرتے۔

بہت سی امریکی ریاستوں اور یورپی ممالک میں بھی اہلخانہ کی کفالت کے قوانین موجود ہیں لیکن ایشیا میں شاذونادر ہی ان کا استعمال ہوتا ہے۔

بنگلہ دیش

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنچند واقعات میں اولاد کو جرمانہ یا قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑا ہے

ایموری یونیورسٹی ہیلتھ سروسز کے محقق ڈاکٹر رے سیرانو نے ایشیا کے مختلف قوانین کا تجزیہ کیا ہے جو اولاد کی سعادت مندی اور والدین کے حقوق سے منسلک ہیں۔ انھوں نے ان قوانین کو ان معاشروں میں 'گزربسر یا بچوں کی جانب سے مدد کی توسیع قرار دیا' جن میں خاندانی اور معاشرتی اقدار کو اہمیت دی جاتی ہے۔

کفالت کی ذمہ داری

سنگاپور اس کی ایک مثال ہے جہاں والدین کی کفالت کے ملکی قانون کے تحت ایسے والدین جو اپنی کفالت خود نہیں کر سکتے اپنے بچوں سے مالی مدد حاصل کر سکتے ہیں۔

وہ اس صورت میں مقدمہ درج کروا سکتے ہیں جہاں ان کے بچے ان کی کفالت کے قابل ہیں لیکن وہ ایسا نہیں کر رہے ہیں۔

عدالت کفالت کے لیے ماہانہ الاؤنس یا یکمشت رقم کا فیصلہ ان کے حق میں دے سکتی ہے۔ کفالت کی رقم دونوں فریقین کی باہمی رضامندی سے بھی طے کی جاتی ہے۔

بہت کم مقدمات عدالتوں تک پہنچتے ہیں اور زیادہ تر باہمی رضامندی سے ہی حل کر لیے جاتے ہیں۔

سنہ2017 میں کفالت کے لیے بنائی گئی عدالتوں میں صرف 20 مقدمات ایسے تھے جن میں گزربسر کے لیے پیسے دینے کے حق میں فیصلہ ہوا۔

ثقافتی اقدار

چین، انڈیا اور بنگلہ دیش میں ایک جیسے نظام ہیں جو حالیہ برسوں میں عمررسیدہ آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بنائے گیے ہیں۔ ڈاکٹر سیرانو کہتے ہیں کہ یہ 'ادلے بدلے' کا تصور ہے۔

'اگر آپ جوان اولاد ہیں اور اپنے والدین کے ساتھ نہیں رہ رہے تو کم از کم آپ ان کی کفالت کریں۔'

چند معاملوں میں اولاد کو جرمانہ یا قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

چین کے صوبے سیچوان کے ایک حالیہ مقدمے کی مثال لے لیجیے۔ جہاں عدالت نے مبینہ طور پر اپنے ضعیف والد کو چھوڑنے اور ان کفالت نہ کرنے پر پانچ بیٹوں کو دو سال تک جیل کی سزا سنائی۔

بنگلہ دیش
،تصویر کا کیپشنطاہر مالی مدد کے لیے اپنے بیٹے اور بیٹی پر انحصار کرتے ہیں

ریاست کا کردار

ان قوانین میں عام طور پر عمر رسیدہ افراد کی غربت پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے نہ کہ طویل مدتی دیکھ بھال پر مگر جیسے جیسے سماج بوڑھا ہو رہا ہے یہ قوانین ریاست کا بوجھ کم کرنے کا ایک وسیلہ ہو سکتے ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ 2020 تک، دنیا میں 60 سال کی عمر کے افراد کی تعداد پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی تعداد سے زیادہ ہو جائے گی اور 2050 تک 80 فیصد عمر رسیدہ افراد کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں جی رہے ہوں گے۔

ڈاکٹر سیرانو کہتے ہیں کہ سنگاپور کی طرح باقی ممالک میں بھی ایسے قوانین کو بچوں میں بیداری کے لیے ایک چھڑی کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

پھر بھی یہ پالیسی کی سطح پر ایک ایسی تبدیلی ہے جسے برطانیہ اور امریکہ جیسے ممالک میں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے استاد جیمز سبین کہتے ہیں کہ ایسے قوانین کو امریکہ میں کبھی پذیرائی ملنے کی امید نہیں ہے۔

پروفیسر جیمز جو محکمہ آبادی اور نفسیات کے سربراہ ہیں، کہتے ہیں کہ امریکہ سنگاپور جیسے معاشرتی نظام پر مبنی ملک کے 'بالکل الٹ' ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ 'ہم ایک ایسا معاشرہ ہیں جہاں انفرادی حقوق کو کچلے جانے کا امکان کم ہی ہے۔'

انھوں نے ایسے ممکنہ خطرات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ جب اولاد یہ کہہ دے کہ والدین دیکھ بھال کے مستحق نہیں ہیں۔

پروفیسر سبین کا کہنا ہے کہ' کچھ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ 'میرے والدین نے مجھے نظر انداز کیا، میرے والدین نے میرے ساتھ برا سلوک کیا۔۔۔' اور یہ معروف فلسفی کنفیوشس کے بزرگوں کے احترام کے مخالف نظریہ ہوگا۔

'مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں ان سماجی نفسیاتی فیصلوں کے لیے عدالت پر انحصار کرنا چاہیے۔‘

مگر ابوطاہر کے لیے بنگلہ دیش کے نظام نے خوش آئند مدد فراہم کی۔ انھوں نے اپنے بیٹے کے ساتھ عدالت سے باہر معاملہ طے کر لیا ہے اور ان کے بیٹے شاہجہان نے ہر ماہ اپنے والد کو دس ہزار ٹکا ادا کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

ابھی تک انھوں نے اپنے والد کے ساتھ کیے گئے معاہدے کا پاس رکھا ہے۔ ابو طاہر کا کہنا ہے کہ اگر ان کا بیٹا ہر ماہ ان کو پیسے ادا کرتا رہا تو وہ چٹاگانگ کی مقامی عدالت سے اپنا مقدمہ واپس لے لیں گے۔