انڈیا میں ملازمتوں کے اعداد و شمار مودی کی مشکلات میں ایک اور اضافہ

Indian youth queue at a jobs fair in Mumbai on October 12, 2011.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنہر پانچ میں سے ایک نوجوان بے روز گار ہے

انڈیا سرکاری ملازمتوں سے متعلق عام ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں بے روز گاری کی شرح سنہ 1970 کی دہائی کے بعد سے سب سے زیادہ ہے۔

ماہر اقتصادیات وویک کول اس کی وضاحت کرتے ہیں کہ اس کا کیا مطلب ہے اور یہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت کے لیے کیوں معنی رکھتی ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے یہ تفصیلات عام انتخابایت سے پہلے روکے رکھیں۔

اسی بارے میں

رپورٹ میں ہے کیا؟

اس میں بتایا گیا ہے کہ انڈیا میں ملازمتیں ایک مسئلہ ہیں۔

ملک میں بے روز گاری کی شرح 6.1 فیصد ہے اور یہ سنہ 1972-73 کے بعد سے بلند ترین شرح ہے۔ یہ بات حال ہی میں کیے گئے سروے سے پتا چلی جسے حکومت نے جاری کرنے سے انکار کر دیا اور یہ لیک ہو کر اور دی بزنس سٹینڈرڈ اخبار کو مل گئی۔

اگر سرسری انداز میں دیکھا جائے تو 6.1 فیصد اتنی خوفناک شرح نہیں لگتی لیکن اگر اس کا سنہ 2011-2012 سے تقابل کیا جائے تو اس وقت یہ صرف 2.2 فیصد تھی۔ اور خاص طور پر بے روز گاری کی یہ شرح شہری آبادی کے 15 سال سے 29 سال کے افراد میں بہت زیادہ ہے جہاں 18.7 فیصد مرد اور 27.2 فیصد خواتین ملازمتوں کی تلاش میں ہیں۔ جبکہ دیہاتوں میں 17.4 فیصد مرد اور 13.6 فیصد خواتین بے روز گار ہیں۔

یہ اہم کیوں ہے؟

برسوں تک انڈیا کی معاشی ترقی کی کہانی اس کی نوجوان افرادِ قوت کی وجہ سے بیچی جاتی تھی۔ اس کی آبادی کا 65 فیصد 35 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ خیال تھا کہ ایک کروڑ سے ایک کروڑ بیس لاکھ افراد سالانہ اس کی افرادی قوت میں شامل ہوں گے۔ اور جب وہ کمانے اور خرچ کرنے لگیں گے تو ترقی بڑھے گی اور لاکھوں لوگ غربت سے باہر آئیں گے۔

Prime Minister Narendra Modi addressing BJP party workers during a public meeting on October 29, 2017 in Bengaluru.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکئی لوگ آئندہ انتخابات کو مودی کے خلاف ریفرنڈم قرار دے رہے ہیں

لیکن سروے کے مطابق نوجوانوں میں بے روز گاری کی شرح بہت زیادہ ہے۔ ہر پانچ میں سے ایک شخص کو نوکری کی تلاش ہے۔

عام انتخابات سے چند ماہ قبل اس سروے کے نتائج کا سامنے آنا اسے اور بھی اہم بناتا ہے۔ اس رپورٹ کی تصدیق انڈیا کے اعداد و شمار کے کمیشن نے بھی کی ہے۔ اس کے دو ارکان رواں ہفتے کے اوائل میں مستعفی ہو گئے ہیں اور اس کی ایک وجہ حکومت کا اس رپورٹ کو جاری کرنے سے انکار بھی ہے۔

سنہ 2013 میں مودی کی انتخابی مہم میں ملازمتیں پیدا کرنا بھی شامل تھا۔

جنوری میں ایک نجی ادارے سنٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی نے اس بارے میں تشویش ظاہر کی تھی کہ بے روز گار افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور یہ دسمبر سنہ 2018 تک ایک کروڑ دس لاکھ تک پہنچ جائے گی۔

اس کا الزام کے کس کے سر ہے، حکومت یا معیشت؟

تھوڑا تھوڑا دونوں کا۔

انڈیا کی معیشت اور بیورکریسی دونوں ہی کاروبار اور ملازمتوں کی تشکیل کی پذیرائی نہیں کرتی، کئی ممنوعہ حدیں ہیں اور کئی لازمی اصلاحات ہونا باقی ہیں۔ سارا الزام مودی کے سر نہیں ڈالا جا سکتا جو صرف پانچ سال سے حکومت میں تھے۔ یہ مسئلہ ان سے پرانا اور گہرا ہے۔

An Indian resident holds 500 and 1000 rupee notes.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکرنسی نوٹوں کی اچانک بندش کے معیشت کو نقصان پہنچایا

لیکن مودی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ’کم سے کم حکومت اور زیادہ سے زیادہ منتظم‘ ہوں گے، اس کا مطلب ہے وہ اقتصادی ترقی لائیں گے جس میں وہ ناکام رہے۔ ان کی حکومت نے دو چیزیں اور بھی کیں جس نے معیشت کو بری طرح متاثر کیا۔

سنہ 2016 میں ان کی حکومت نے 500 اور 1000 کے نوٹ منسوخ کر دیے جو ملک میں گردش کرنے والی کرنسی کا 86 فیصد تھے۔ یہ بظاہر غیر قانونی دولت رکھنے والوں کے خلاف ایک کریک ڈاؤن تھا۔ لیکن انڈیا کے مرکزی بینک کا کہنا تھا کہ زیادہ تر پیسہ اس کے بینکاری کے نظام میں آیا۔

کرنسی پر اس پابندی کی وجہ سے انڈیا کے بیشتر حصوں میں معیشت متاثر ہوئی خاص طور پر غیر رسمی شعبے میں جہاں زیادہ تر انحصار نقد رقوم پر ہوتا تھا۔ اس سے زراعت بھی متاثر ہوئی کیونکہ کسان بھی زیادہ تر ادائیگیاں اور وصولیاں کیش میں کرتے تھے۔

کئی چھوٹے کاروبار بند ہو گئے اور بہت سی نوکریاں ختم کی گئی۔ اس صورتحال میں زیادہ تر نوجوانوں کو فارغ کیا گیا۔

پھر جولائی 2017 میں حکومت نے گڈز اینڈ سروسز ٹیکس لاگو کر دیا۔ اس کی وجہ سے چھوٹے کاروبار تباہ حال ہو گئے۔ کیونکہ اسے گھٹیا انداز میں بنایا اور لاگو کیا گیا۔ اس کی وجہ سے ملازمتوں کی بحالی میں تاخیر ہوئی۔

اس سروے کے لیے ڈیٹا جولائی 2017 اور جون 2018 کے درمیان اکٹھا کیا گیا۔ کرنسی کی بندش اور نئے ٹیکس کوڈ کے بعد ملازتوں کے حوالے سے کیا جانے والا یہ پہلا سروے تھا۔

کیا اعداد و شمار کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے؟

جو حزب اختلاف کی جماعتوں نے چند برس پہلے بڑھتی ہوئی بے روز گاری پر تشویش ظاہر کی تھی تو مودی نے زیادہ تر اس تنقید کو مسترد کیا اور کہا ’کسی کے پاس بھی ملازمتوں سے متعلق صحیح اعداد و شمار نہیں ہیں۔‘ اور ان اعداد و شمار کو پروپیگینڈا قرار دیا۔

مودی کا اشارہ ملک کی بڑی غیر رسمی معیشت کی طرف تھا جس میں ملک کی تین چوتھائی ملازمتیں موجود ہیں۔ لیکن کوئی بھی بامعنی سروے اس کی تفصیلات حاصل کر سکتا تھا۔

تو کیا بے روز گاری کی زیادہ شرح اس بات کا اشارہ ہے کہ مزید لوگ نوکریاں تلاش کر رہے ہیں؟

نہیں، بے روز گاری کی شرح کو کبھی بھی مثبت اشارے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔

An Indian labourer climbs the wall of a building undergoing demolition in in Uttar Pradesh state.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈیا کے تین چوتھائی مزدور غیر رسمی صنعتوں میں کام کرتے ہیں

اس سروے میں مزدوروں کی شمولیت کی بھی شرح ڈالی گئی ہے۔ جو کہ سنہ 2011-12 کے مقابلے میں 39.5 سے گر کر سنہ 2017--18 میں 36.9 پر آگئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آبادی نسبتاً کم حصہ ملازمتیں تلاش کر رہا ہے۔ ایسا تب ہوتا ہے جو لوگوں کو مطلوبہ ملازمتیں نہیں ملتی اور پھر وہ اس کی تلاش بھی ترک کر دیتے ہیں پھر وہ مزدوروں کی فہرست سے نکل جاتے ہیں۔

اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ نوجوان زیادہ برس اپنی تعلیم میں صرف کر رہے ہیں اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ ایسا چاہتے ہیں یا پھر یہ کہ انہیں ملازمت نہیں مل رہی ہے۔

(وویک کول ایک ماہر اقتصادیات ہیں اور انھوں نہ ایزی منی ٹرائولوجی بھی تحریر کی ہے)