آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
عاطف مشعل: کیا افغانستان کے نئے سفیر پاکستان کی ’ٹف پچ‘ پر بازی کھیل پائیں گے؟
- مصنف, خدائے نور ناصر
- عہدہ, بی بی سی، اسلام آباد
کرکٹ کے کھلاڑی، کرکٹ کے شوقین اور افغانستان کرکٹ بورڈ کے سابق چئیرمین شکراللہ عاطف مشعل نے ایک ایسے وقت میں اسلام آباد میں افغانستان کے نئے سفیر کی حیثیت سے سفارتکاری کا آغاز کیا ہے جب پاکستان میں کرکٹ سٹار سے سیاستدان بننے والے عمران خان وزیراعظم ہیں۔
لیکن نئے افغان سفیر کو مخدوش پاک افغان سیاسی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے اہم اور تیز ترین پچ پر اپنی بازی کھیلنی ہوگی۔
نئے افغان سفیر دسمبر 2016 میں افغان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین منتخب ہوئے تھے اور کچھ مہینے پہلے تک اسی عہدے پر فائز تھے۔
یہ بھی پڑھیے
بعض ذرائع کے مطابق اُن کی تقرری کا فیصلہ کئی ماہ پہلے ہوا تھا، لیکن اُنھوں نے اپنے کام کا آغاز ایسے وقت میں کیا جب کابل میں افغان صدر اشرف غنی نے اپنی کابینہ میں طالبان اور پاکستان مخالف سمجھے جانے والے این ڈی ایس کے دو سابقہ سربراہان کو وزارت داخلہ اور دفاع کے قلمدان دیے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بتیس سالہ نئے افغان سفیر کا سفارتکاری میں یہ پہلا تجربہ ہوگا، لیکن بحیثیت چیئرمین کرکٹ بورڈ اُنھوں نے پاکستان کے ساتھ کرکٹ کی فروغ کے لئے کوششیں کی ہیں۔
عاطف مشعل کی چیئرمین کرکٹ بورڈ تعیناتی سے مئی 2017 تک دونوں ملکوں کے کرکٹ بورڈز کے درمیان اچھے تعلقات رہے، لیکن اسی ماہ کابل میں ہونے والے ایک خودکش حملے کے بعد افغان کرکٹ بورڈ نے پاکستان کے ساتھ ہونے والے دوستانہ میچز کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔
کابل میں آج بھی بیشتر افغان وہاں شدت پسندی کے ہر واقعے کا ذمہ دار اسلام آباد کو ٹھہراتے ہیں اور الزام لگاتے ہیں کہ شدت پسندوں کی پناہ گاہیں پاکستان میں موجود ہیں۔
ایسے حالات میں جب امریکہ اور طالبان کے براہ راست مذاکرات شروع ہو چکے ہیں اور افغانستان میں اگلے سال جون میں صدارتی انتخابات بھی ہورہے ہیں، نئے افغان سفیر پر ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان اچھے تعلقات قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں۔
کابل اور بین الاقوامی کمیونٹی ایک عرصے سے اسلام آباد پر طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے دباؤ ڈالتی رہی ہے، جس کے جواب میں پاکستان کا موقف تھا کہ اُن کا طالبان پر پہلے جیسا اثر ورسوخ نہیں رہا ہے۔
اس سے پہلے لگ بھگ ڈھائی سال تک اسلام آباد میں افغان سفیر کے عہدے پر رہنے والے ڈاکٹر حضرت عمر زاخیلوال نے صحافیوں کے ساتھ الوداعی نشست میں کہا تھا کہ اُن کے دور میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات اچھے رہے، لیکن دونوں ملکوں میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات نے مسلسل ان تعلقات کو نقصان پہنچایا۔
سوال اب بھی یہی ہے کہ کیا شدت پسندی کے واقعات کے بعد صرف اور صرف الزام در الزام لگائے جائیں گے یا پھر شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنے کے لئے ٹھوس اور عملی اقدامات بھی اُٹھائیں جائیں گے؟