آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سابق انڈین کرکٹر سدھو سے ملنے کے لیے 280 کلومیٹر سفر طے کرنے والا سات سالہ وارث ڈھلوں
کیا ایک سات سالہ بچہ کسی کا چھ گھنٹے تک انتظار کر سکتا ہے؟ انڈین ریاست پنجاب میں ایسا ہی ہوا جب ایک سات سالہ بچے نے سابق کرکٹر اور سیاست دان نوجوت سنگھ سدھو سے آٹوگراف حاصل کرنے کے لیے 280 کلومیٹر کا سفر طے کیا اور گھنٹوں انتظار کے بعد آخر کار کامیاب ہو ہی گیا۔
وارث ڈھلوں نے اپنے والد سے التجا کی تھی کہ وہ اسے سدھو سے ملوانے کے لیے چنڈی گڑھ لے جائیں۔
چنڈی گڑھ پہنچ کر سنہری جیکیٹ اور لال بو ٹائی لگا کر تیار وارث اپنے بلے پر سدھو سے دستخط کروانے کے لیے چھ گھنٹے انتظار کرتا رہا۔
بی بی سی نامہ نگار اروند چھابڑا کو وارث نے بتایا کہ سدھو اس کے پسندیدہ کرکٹر ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
پنجاب میں تین وزارتوں کے سربراہ نوجوت سنگھ سدھو سے ملنے کے لیے صحافیوں کی بھیڑ میں یہ بچہ بھی کھڑا رہا۔
جب بھیڑ چھٹ گئی تو کسی نے سدھو کو بتایا کہ ان کا ایک ننھا مداح بھی ان سے ملنے کے لیے گھنٹوں سے انتظار کر رہا ہے۔ انہیں بتایا گیا کہ وارث اپنے ساتھ کرکٹ کے دو بلے لے کر آیا ہے جن پر ان کے آٹوگراف چاہتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وارث نے بتایا کہ ’میں اپنے والد سے کئی مہینوں سے گزارش کر رہا تھا کہ وہ مجھے سدھو سے ملوانے کے لیے لے جائیں۔‘
وارث کے والد نے بتایا کہ ان کا گھر بھٹنڈا میں ہے اور وارث کو سدھو سے ملوانے کے لیے انہیں بھٹنڈا سے چنڈی گڑھ تک ڈرائو کرنے میں چھ گھنٹے لگے۔
نوجوت سندھ سدھو نے 19 برس تک کرکٹ کھیلی اور اپنی دھوآں دھار بلےبازی کے لیے مشہور ہوئے۔ کرکٹ سے ریٹائرمینٹ کے بعد وہ کمینٹیٹر بن گئے۔ بطور کمینٹیٹر انہوں نے اپنی جملہ بازی کے ذریعہ اپنے لیے مختلف جگہ بنائی۔
یہ بھی پڑھیے
سنہ 2004 میں سدھو نے سیاست میں قدم رکھا اور اپنی بے باکی کے لیے متعدد تنازعات کا حصہ بھی رہے۔
سنہ 2006 میں انہیں ایک شخص کے غیر ارادی قدم کے لیے مجرم قرار دیا گیا۔ پارکنگ پر ہونے والے جھگڑے میں انہوں اس شخص کو بری طرح پیٹا تھا اور بعد میں اس شخص کی موت ہو گئی تھی۔ .
سنہ 2018میں سپریم کورٹ میں معاملے کی سماعت کے بعد انہیں قدم کے الزام سے بری کر دیا گیا تھا۔