'موسیقی کو روکنا عدم رواداری نہیں بربریت ہے'

پوسٹر

،تصویر کا ذریعہSpicMacay

    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

انڈیا کا دارالحکومت دلّی آرٹ، ادب اور ثقافت کی تقاریب اور پروگراموں کے لیے مشہور ہے۔ وزیر اعظم کی رہائش گاہ سے کچھ ہی دوری پر نہرو پارک میں ہر برس کلاسیکی موسیقی اور رقص کا ایسا ہی ایک پروگرام منعقد کیا جاتا ہے۔

ساز و آواز کی محفلیں دو روز تک چلتی ہیں۔ کلاسیکی موسیقی اور رقص وثقافت کے ہزاروں شیدائی اس پروگرا م میں شرکت کرتے ہیں۔ اس پروگرام کا اہتمام کلاسیکی موسیقی اور آرٹ کو فروغ دینے والی ایک تنظیم کرتی ہے۔ کوئی بڑی کمپنی یا کارپوریٹ ہاؤس اس پروگرام کو سپانسر کرتی ہے۔

ہر برس کی طرح رواں سال بھی ملک کے کئی نامور کلاسیکی گلوکاروں اور رقاصوں کو اس پروگرام میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ ان میں کرناٹک سنگیت کے عظیم گلوکار ٹی کرشنا بھی شامل تھے۔ انھوں نے کرناٹک سنگیت کی لے پر اسلامی اورمسیحی مذہبی گیتوں کو بھی اپنے کلاسیکی انداز میں گایا ہے۔

ٹی کرشنا صرف کرناٹک کلاسیکی سنگیت کے ہی فنکار نہیں ہیں وہ ماحولیات اور مذہبی ہم آہنگی جیسے اہم سوالوں پر بھی بولتے اور لکھتے رہے ہیں۔ وہ بی جے پی اور بالخصوص وزیر اعظم نریندر مودی پر اکثر تنقید کرتے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

اخبارات کے اشتہارات میں دلّی کے نہرو پارک کے پروگرام میں ان کا نام آتے ہی ہندتوا اور بی جے پی کے حامیوں نےسوشل میڈیا پر ان کے خلاف نفرت انگیز پیغامات کی یلغار کر دی۔

انھیں 'بھارت مخالف'، 'عیسائی جنونی' اور 'شہری ماؤنواز' قرار دیا گیا۔ دائیں بازو کے بڑھتے ہوئے حملوں کے درمیان پروگرام کے سپانسر، سرکاری ملکیت کے ایئر انڈیا نے نہرو پارک کا پروگرام نامعلوم وجوہ سے منسوخ کر دیا۔

ٹی ایم کرشنا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ٹی کرشنا موسیقی میں اعلی ذات کی اجارہ داری اور سیکولرزم کے بارے میں اپنے تصور کے لیے ہندو نواز تنظیموں کے نشانے پر رہے ہیں۔ کچھ عرصے قبل امریکہ میں ان کا ایک پروگرام اس وجہ سے منسوخ کر دیا گیا تھا کیونکہ انھوں نے کلاسیکی طرز پرمسیحی مذہبی نظمیں گائی تھیں۔

ٹی کرشنا کے پروگرام کو منسوخ کیے جانے کے بعد ملک کے میڈیا میں آزادی اظہار کے سوال پر بحث چھڑی ہوئی ہے۔ ایک طرف مذہبی قوم پرستوں کے دباؤ میں ان کا پروگرام منسوخ کیا گیا تو دوسری جانب ‏دلّی میں عام آدمی پارٹی نے انھیں دارالحکومت میں پرفارمنس کی دعوت دی ہے۔

بی جے پی کی حامی ملک کی مایہ ناز کلاسیکی رقاصہ سونل مان سنگھ بھی کرشنا کے ساتھ دلی کے پروگرام میں شامل ہونے والی تھیں۔ انھوں نے ٹی کرشنا پر تنقید کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ کرشنا نے وزیر اعظم پر نکتہ چینی کرنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑا ہے۔ ان کے خیالات ایک فنکار کے نہیں ایک سیاسی کارکن کے ہیں۔ سونل کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص سیاسی کارکن کی طرح برتاؤ کرتا ہے تو وہ فنکار کی مراعات کا حقدار نہیں ہو سکتا۔

اے بی وی پی
،تصویر کا کیپشنآر ایس ایس اور بی جے پی مذہبی قوم پرستی کی علم بردار ہیں، ان کا نظریہ اعتدال پسند سیاسی، سماجی اور ثقافتی نطریے سے متصادم ہے

’نامور مورخ اور دانشور کے خلاف مہم‘

گذشتہ دنوں نظریاتی اختلاف اور اظہار رائے کی آزادی کے ایک معاملے میں ملک کے نامور مورخ اور دانشور رام چندرگوہا نے ہندو قوم پرستوں کی زبردست مخالفت اور مہم کے بعد احمدآباد یونیورسٹی میں پڑھانے کا فیصلہ واپس لے لیا تھا۔

وہ بی جے پی اور اور وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرستی کی پالیسیوں کے سخت مخالف ہیں۔ احمدآباد یونیورسٹی نے انھیں اپنے یہاں درس کی پیشکش کی تھی۔لیکن ہندوتوا کے حامیوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر مہم چلانے جانے کے بعد انھوں نے احمدآباد یونیورسٹی میں پڑھانے سے معذوری ظاہر کر دی۔

رام چندرگوہا نے ٹی کرشا کی موسیقی کا پروگرام منسوخ کیے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ 'اگر کسی سکالر کو کسی یونیورسٹی میں پڑھانے سے روک دیا جائے تو اسے عدم روادی کہیں گے۔ لیکن اگر ایک عظیم موسیقار کوقومی دارالحکومت میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے سے روک دیا جائے تو اسے عدم رواداری نہیں بربریت کہا جائےگا۔'