روہنگیا برادری کے سات افراد کو ملک بدر کر کے انڈیا کیوں خوش ہے؟

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی نامہ نگار، دلی
انڈیا نے شمال مشرقی ریاست آسام میں کئی برس قبل گرفتار کیے جانے والے سات روہنگیا پناہ گزینوں کو ملک بدر کر کے برما بھیج دیا ہے۔ ان پناہ گزینوں کو آسام میں سنہ 2012 میں غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور اس وقت سے وہ قید میں تھے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں نے روہنگیا کی ملک بدری روکنے کے لیے ملک کی سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن داخل کی تھی جس میں درخواست کی گئی تھی کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزیں کو ان پناہ گزینوں سے ملنے کی اجازت دی جائے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کیا وہ پناگزینوں سے متعلق قانون کے تحت تحفظ چاہتے ہیں۔ لیکن سپریم کورٹ نے یہ پٹیشن مسترد کر دی اور روہنگیا کو ملک بدر کرنے کی اجازت دے دی۔
نسل پرستی سے متعلق اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نے کہا ہے کہ انڈیا نے روہنگیا کی ملک بدری سے ممکنہ طور پر اپنی بین الاقوامی ذمے داریوں کی خلاف ورزی کی ہے کیونکہ برما میں روہنگیا کی سلامتی کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔
انڈیا میں بعض اندازوں کے مطابق تقریباً چالیس ہزار روہنگیا مسلمانوں نے پناہ لے رکھی ہے۔ ان میں سے تقریباً اٹھارہ ہزار ایسے ہیں جو اقوام متحدہ کے پناہ گزین ادارے میں پناہ گزینوں کے طور پر درج ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
انڈیا کی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ سبھی درانداز ہیں اور وہ ان سب کو ملک بدر کیا جائے گا۔ حکومت اور حکمراں جماعت بی جے پی روہنگیا برادری کو ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتی ہیں۔ بعض ہندو نواز تنظیموں نے روہنگیا کے خلاف مہم چلا رکھی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images
ایمینسٹی انٹرنیشنل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انڈیا کی حکومت نے گذشتہ دو برس سے ملک میں پناہ گزیں روہنگیا برادری کی ایک منفی شبیہ بنانے کے لیے مسلسل مہم چلائی ہوئی ہے، ’انھیں اکثر شدت پسندی سے وابستہ بتایا جاتا ہے اور ان کی ایک ایسی شبیہ بنائی گئی ہے جیسے وہ مظلوم نہیں دہشتگرد ہوں‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ روہنگیا دنیا کی سب سے مظلوم اور ستائی ہوئی برادری ہے۔ چین کے بعد انڈیا واحد ایسا ملک ہے جو روہنگیا کی نسل کشی کے بارے میں اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ نہ کھڑا ہوکر برما کی حکومت اور فوج کے موقف کی حمایت کرتا آیا ہے۔ پناہ گزیں کے طور پر بھی روہنگیا انڈیا کے لیے اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہیں جس طرح کی صورتحال کا سامنا پڑوسی ملک بنگلہ دیش کو ہے جہاں تقریباً دس لاکھ روہنگیا نے پناہ لے رکھی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
سات روہنگیا مسلمانوں کو ملک بدر کرنے کی خبر کا انڈیا کے ٹی وی چینلوں اور قومی میڈیا پر زبردست ڈھنڈھورا پیٹا گیا ہے۔ اس کو حکومت کے ایک بڑے کارنامے کے طور پر پیش کیا گیا۔ حکمراں جماعت نے کہا کہ 'ہم نے جو کہا تھا وہ کر دکھایا۔ ہم سبھی گھس پیٹھیوں (یعنی دراندازوں) کو ملک بدر کریں گے۔'

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images
دراصل نریندر مودی کی حکومت اپنے ہندو قوم پرست حامیوں کو یہ بتا رہی ہے کہ ہندوؤں کی اکثریت والے اس ملک میں مسلم پناہ گزینوں کو نہیں آنے دیا جائے گا۔ مودی نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ اگر کسی ملک میں ہندوؤں کو مشکلات کا سامنا ہو گا تو ان کے پاس جانے کے لیے صرف انڈیا ہی ایک ملک ہے۔ ان کے خیال میں اکثریت کے سبب انڈیا ایک نیچرل ہندو ملک ہے اور مسلمانوں کے لیے تو دنیا میں کئی ممالک ہیں۔ اسی سوچ کے تحت وہ پڑوسی ملکوں سے آنے والے ہندو پناگزینوں کو شہریت دینے کا ایک ترمیمی بل پارلیمنٹ میں لے کر آئے ہیں۔ اس بل میں مسمانوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔
ایمنسٹی، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادی بھلے ہی روہنگیا کو ملک بدر کرنے کے حکومت کے فیصلے پر تنقید کر رہی ہوں لیکن انڈیا کی حکومت اس فیصلے سے کافی مطمئن ہے۔ حکومت اس لیے بھی خوش ہے کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کو ملک بدر کر کے عوام کو جو پیغام دینا چاہتی ہے وہ بہت مؤثر طریقے سے ان تک پہنچ رہا ہے۔
ایک وقت تھا جب انڈیا کے دروازے تبت، افغانستان، عراق، سری لنکا، فجی، غرض کہ کسی بھی ملک کے پناہ گزینوں کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہمیشہ کھلے ہوتے تھے۔ اب انسانیت کا فیصلہ مذہب کی بنیاد پر ہوا کرے گا۔








