آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا میں دو ہم جنس پرست لڑکیوں کی کہانی سینسر سے کیسے بچی رہی
- مصنف, یوگیتا لیمائے
- عہدہ, ممبئی نامہ نگار، بی بی سی نیوز
سمارٹ فونز اور انٹرنیٹ کی قیمتوں میں تیزی سے کمی کے باعث یہ رجحان سامنے آنے لگا ہے کہ انڈیا میں لوگ اب اپنے فون کی سکرینوں پر بہت سی چیزیں دیکھنے لگے ہیں۔ اور اس کی وجہ سے ملک کی انٹرٹینمنٹ کی صنعت میں تخلیقی آزادی کی نئی راہیں کھل گئی ہیں۔
فلم ہدایتکار کرشنا بھٹ کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ نے انھیں یہ صلاحیت دے دی ہے کہ وہ بالکل وہی کہانی دکھا سکیں جو وہ دکھانا چاہتی ہیں۔
انھوں نے دو شوز تیار کیے ہیں جو انٹرنیٹ پر شائع، یا یوں کہیں کہ نشر کیے جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک مایا ہے، جو دو ہم جنس پرست لڑکیوں کی محبت کی کہانی ہے۔ ایسے شو کو انڈیا میں ٹی وی یا سینما سکرین پر دکھانا بہت مشکل ہوتا۔
کرشنا بھٹ کا کہنا ہے کہ ’کسی تھیٹر میں ہم بستری دکھانے کے لیے مجھے سینسر کے 10000 قوانین سے گزرنا پڑتا۔‘
’بہت ہی بیوقوفانہ وجوہات کی بنا پر بوسوں کے سین کاٹ دیے جاتے۔ آپ ایسا کچھ تو ٹی وی پر بھی نہیں دکھا سکتے۔‘
اگرچہ انڈیا میں ٹی وی اور فلموں پر سخت سینسر قوانین لاگو ہیں تاہم انٹرنیٹ شوز پر اب تک تو کوئی قواعد نہیں لگائے گئے۔
کرشنا بھٹ کہتی ہیں کہ جب آپ پر سخت نگرانی نہیں کی جا رہی ہوتی تو یہ ایک آزادی کا احساس ہے، ایک خود مختاری ہے۔
’ڈیجیٹل آپ کے لیے یہ ہی کرتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انڈیا میں پرائم ٹائم ٹی وی پر زیادہ تر فیملی ڈرامے ہیں جو کئی سالوں تک چلتے رہتے ہیں اور ان کی ہزاروں قسطیں ہوتی ہیں۔
اس سے نہ صرف دیگر شوز کے لیے مواقع محدود ہو جاتے ہیں بلکہ اس سے یہ بھی محدود ہو جاتا ہے کہ کس قسم کی کہانیاں دکھائی جا سکتی ہیں۔
اسی لیے آن لائن نشریات کی وجہ سے اداکاروں، مصنفوں، اور ہدایتکاروں کو نئی آزادی مل گئی ہے۔
مثال کے طور پر شمالی ممبئی میں چاندیوالی سٹوڈیو ایک ہندی زبان کا شو ریکارڈ کر رہا ہے، جس کا نام ہے اپاراہن (اغوا)۔
یہ لوگ دو رات کام کر کے اس شو کی 11 قسطیں مکمل کرنا چاہ رہے ہیں کیونکہ اسے نومبر میں انٹرنیٹ پلیٹ فارم اے ایل ٹی بالاجی پر نشر ہونا ہے۔ یہ پلیٹ فارم 96 ممالک میں دستیاب ہے۔
کھلے آسمان تلے بنے کسی چھوٹے بازار کے اس سیٹ پر اروندے سنگھ اغوا کی ایک کہانی میں پھنسے ایک سابق پولیس اہلکار کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
وہ کئی بالی وڈ فلموں میں آ چکے ہیں مگر چھوٹے کرداروں میں۔ وہ کہتے ہیں کہ گذشتہ چار پانچ سالوں میں وہ بالی وڈ کے سسٹم میں پھنس گئے تھے۔ ’میں بڑا سٹار نہیں مگر گم نام بھی نہیں۔‘
’اسی لئے کاسٹنگ ڈائریکٹروں کو پتا ہے کہ میں کیا کرتا ہوں اور اس لیے وہ مجھے موقع بھی نہیں دیتے۔‘
آن لائن انٹرٹینمنٹ نے ان کے لیے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔
اپاراہن ان درجنوں سیریز میں سے ایک ہے جو اس سال انڈیا میں بنائی جا رہی ہیں کیونکہ لوگوں کی توجہ اس آن لائن سیریز پر مرکوز ہے۔
اروندے سنگھ کہتے ہیں کہ ’اب اداکاروں کے لیے اور خاص طور پر مصنفوں کے لیے بہت زیادہ مواقع ہیں جو کہ ایک اچھی بات ہے کیونکہ یہ ایک انتہائی مشکل کاروبار ہے۔‘
ادھر بیرونی کمپنیاں نیٹ فلکس اور ایمازون بھی انڈین مارکیٹ میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔
مگر ان سب میں منافع بخش کون کون ہوگا؟
انڈیا جیسی مارکیٹ جہاں 30 کروڑ سمارٹ فون صارفین ہیں، سبسکرپشن ایک اہم ذریعہِ آمدنی ہو سکتا ہے۔