#HisChoice: 'میں ہاؤس ہزبینڈ ہوں تو لوگوں کو کیا مسئلہ ہے؟'

ہز چوائس

ہم نے اس سے قبل 'ہر چوائس' نامی سیریز میں ان خواتین کی کہانیاں پیش کی تھیں جنھوں نے اپنی خواہشات کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اب ہم ’ہز چوائس‘ لا رہے ہیں کچھ ایسے مردوں کی کہانیاں جنھوں نے سماج کے طے شدہ اصولوں سے بغاوت کی اور روایتی ڈگر کی پروا کیے بغیر اپنی مرضی سے اپنی راہ منتخب کی اور کسی خانے میں فٹ ہونے سے انکار کیا۔ یہاں پیش ہے ایسے ہی ایک مرد کی کہانی جنھوں نے 'ہاؤس ہزبینڈ' بننے کی جرات کی۔

میں اپنے سالی کی شادی کے موقعے سے اپنے سسرال میں تھا۔ اس بار ہمارے ساتھ ایک نیا مہمان تھا اور مہمان کوئی اور نہیں بلکہ ہماری بیٹی تھی۔

میری بیوی شادی بیاہ کی رونق اور رقص و موسیقی کی محفلوں میں مست تھی اور میری بیٹی میرے ساتھ سائے کی طرح تھی کیونکہ اسے میرے ساتھ رہنے کی عادت تھی اور وہ مجھ سے زیادہ مانوس تھی۔

ہم سب باتوں میں مشغول تھے تبھی میری بیٹی نے پوٹی کر دی۔ جیسے ہی میں اسے صاف کرنے کے لیے بھاگا میری ساس نے مجھے ٹوک دیا۔

ایک کونے میں لے جا کر انھوں نے مجھ سے سختی سے کہا: 'آپ اس گھر کے داماد ہیں۔ یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ رشتہ دار دیکھیں گے تو کیا کہیں گے؟ سونالی کو بلائیے۔ وہ بچی کو صاف کرے گی اور اس ڈائپر پہنائے گی۔

اس سے قبل کہ میں کچھ کہہ پاتا کہ 'یہ میں بھی کر سکتا ہوں' میری ساس نے میری بیوی کو بلایا اور کہا: 'جاؤ اپنی بیٹی کو صاف کرو۔'

یہ بھی پڑھیے

میری بیوی اور میں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ میری ساس نے مزید تلخ لہجے میں کہا: 'سونالی ...!' اور میری بیوی اپنی بیٹی کو لے کر فوری طور پر واش روم چلی گئی۔

میں حیران تھا۔ کیونکہ یہ کام میرے لیے نیا نہیں تھا اور میری ساس اور سسر کو معلوم تھا کہ میں 'ہاؤس ہزبینڈ' ہوں یعنی گھر پر رہنے والا اور گھریلو کام کاج کرنے والا شوہر۔

میرا خیال ہے کہ انھیں شرمندگی دوسروں کی موجودگی کی وجہ سے ہوئی ہوگی۔ کئی لوگوں کے چہروں پر طنزیہ مسکراہٹ تھی۔

ہز چوائس

شادی کے شور شرابے اور ہنگامہ خيز ماحول میں بھی کئی بار دبی زبان سے نکلنے والی آوازیں میرے کانوں میں پڑی تھیں کہ 'یہ ہاؤس ہزبینڈ ہے ناں!'

میرے ساس اور سسر یہ نہیں چاہتے تھے کہ یہ بات دنیا کے سامنے آئے۔ میں جانتا ہوں کہ لوگ آپ کا مذاق صرف اس لیے اڑاتے ہیں کہ آپ شرمندہ ہوں۔

لیکن میں نے بھی فیصلہ کر لیا تھا کہ نہ تو میں شرمندگی محسوس کروں گا اور نہ ہی اپنا رویہ بدلوں گا۔

ہم نے دوسری ذات کی لڑکی سے محبت کی شادی کی ہے۔ ہم نے پہلے ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ کریئر میں جسے اچھا موقع ملے گا وہ آگے جائے گا اور ابتدا سے ہی میرا کريئر اچھا نہیں تھا جبکہ سونالی کامیابیوں کے زینے چڑھتی گئی۔

ہم نے فیصلہ کیا کہ میں گھر کے کام کاج دیکھوں گا اور وہ نوکری کرے گی۔

گھر کے کام میں میرا کوئی معاون نہیں ہے۔ میں ہی صاف صفائی اور برتن دھونے کے ساتھ سبزیاں لانے اور کھانا پکانے کا کام کرتا ہوں۔

شاید انھیں میرا گھر کے کام کرنا عجیب لگ رہا تھا لیکن یہ میرا معمول تھا۔

میں اپنے تین بھائیوں میں سب سے چھوٹا ہوں۔ میں اپنے گھر میں بھی اپنی ماں کا ہاتھ بٹایا کرتا تھا اور اس زمانے میں میرے دوست مجھے ’ہاؤس وائف‘ یا خاتون خانہ کہہ کر چھیڑتے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

اب دہلی کے میرے پڑھے لکھے دوست گھر پر کام کرنے کی میری 'چوائس' کو سمجھنے لگے ہیں لیکن جب میں اپنے شہر بھوپال جاتا ہوں تو میرے دوست میرا مذاق اڑاتے ہیں۔

جب کسی سیاسی یا حساس مسئلے پر بحث ہوتی ہے تو سب میری بات کاٹتے ہوئے کہتے ہیں کہ 'تم نہیں جانتے، چھوڑ دو، یہ بڑے مسائل ہیں۔' مجھے میری حیثیت بتانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ایک بار تو ایسا ہوا کہ دوست کسی مسئلے پر بحث کر رہے تھے اور جوں ہی میں نے کچھ کہنے کے لیے منہ كھولا انھوں نے کہا: 'ارے تم چھوڑو اور چائے بنا لاؤ۔'

میں نے بھی مسکراتے ہوئے جواب دیا 'پکوڑے بھی بنا لاتا ہوں'۔ میں ان سب کو مذاق ہی کے طور پر لیتا ہوں۔

میرے کچھ دوست ابھی بھی مجھ سے مذاقاً فون کرکے پوچھتے ہیں: 'آج کھانے میں کیا بنا رہے ہو؟'

لوگ گھر کے کام کو کام نہیں سمجھتے۔ دوست مجھے طعنہ دیتے ہیں کہ تم گھر میں بیٹھ کر عیش کرتے ہو۔ لیکن وہ نہیں جانتے کہ میں بھی کسی نوکری پیشہ کی طرح صبح اٹھتا ہوں، گھر اور باہر کے تمام کام کرتا ہوں۔

میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ ایسے لوگ 'خاتون خانہ' کو ذلت آمیز نظروں سے دیکھتے ہیں اور انھیں گھر کے کام کی کوئی قدر نہیں۔

ہماری شادی کے چار سال بعد ہمارے یہاں بیٹی پیدا ہوئی۔ اب میری ذمہ داری بڑھ گئی۔ ماں ہونا ایک کل وقتی ملازمت کی طرح ہوتا ہے۔

گھر کی ذمہ داریوں کے علاوہ بیٹی کو نہلانا، کھلانا، اسے سیر کروانا سب میری ذمہ داری تھی۔

ہز چوائس

ابتدا میں جب اپنی بیٹی کو پارک میں لے جاتا تو خواتین میری بیٹی کو پیار کرنے آتیں لیکن چار پانچ دنوں کے بعد انھوں نے پوچھا کہ 'آپ ہی آج بھی آئے ہیں؟ گڑیا کی ماں کہاں ہے؟ کیا طبیعت ٹھیک نہیں ہے؟' وغیرہ وغیرہ۔

جب میں نے جواب دیا کہ میری بیوی جاب کرتی ہے اور میں بچے سنبھالتا ہوں تو نئے سوال شروع ہو گئے۔ 'آپ اتنی چھوٹی بچی کیسے سنبھالتے ہیں؟ کیا وہ آپ کے پاس رہ جاتی ہے؟ کون اسے نہلاتا ہے کون کھلاتا ہے؟' وغیرہ۔

ان کے چہرے پر ایسے آثار آتے جیسے میں کوئی نایاب کام کر رہا ہوں۔ میں ایسا آدمی ہوں جو گھر پر رہتا ہے اور کام پر نہیں جاتا ہے۔

یہاں تک کہ وہ مجھے 'پھوکٹ' کہہ کر پس پشت میرا مذاق اڑاتیں۔

میری شادی کے بعد جب پہلی بار میرے والدین میرے گھر آ ئے تو مجھے گھر کا کام کرتے دیکھنا انھیں پسند نہیں آیا۔ میری ماں نے مجھ سے کچھ بھی نہیں کہا لیکن میں ان کے رویے سے سمجھ گیا کہ وہ اسے برداشت نہیں کر پا رہی ہیں۔

ان کی آنکھوں میں یہ سوال ہوتا تھا کہ 'تم کمانے کیوں نہیں جاتے ہو اور بہو ملازمت کے ساتھ گھر کا کام کیوں نہیں کر سکتی؟'

میری بیوی نے میری ماں کی تکلیف کو محسوس کرتے ہوئے گھر کا کام کرنا شروع کیا لیکن وہ بہت دنوں ایسا نہیں کر سکی۔ پھر میں نے ہی سونالی کو گھر کا کام کرنے سے منع کر دیا۔

یہ بھی پڑھیے

میری ماں کو بات تو سمجھ میں آ گئی لیکن انھوں نے اس کے متعلق خاموشی اختیار کر لی۔

اب میری بیٹی سکول جاتی ہے۔ سکول کی طرف سے اسے 'فیملی ٹری' یا شجرہ بنانے کا کام دیا گیا۔

میں باہر تھا اور میری بیوی نے میری بیٹی کی مدد کی اور اس نے 'خاندان کے سربراہ' کے طور پر میرا نام لکھ دیا۔

جب میں نے دیکھا تو میں نے اس پر اعتراض کیا۔ مجھے یہ کہنا تھا کہ جب سونالی کام کرتی ہے، گھر میں پیسے لاتی تو پھر وہی خاندان کی سربراہ ہوئی لیکن سونالی راضی نہیں ہوئی اور اس نے میرا نام نہیں ہٹایا۔

میں ایک آزاد مصنف ہوں اور گھر سے ہی تصنیفی کام کرتا ہوں۔ میری دو کتابیں شائع ہو چکی ہیں اور تیسری طباعت کے لیے تیار ہے۔ لیکن لوگ اس کی اہمیت نہیں سمجھتے۔

میری بیوی بھی دفتر میں اسی طرح کے سوالات کا سامنا کرتی ہے۔ لیکن ہم دونوں میں اتنی محبت ہے کہ ہمارے تعلقات پر ان کا کوئی اثر نہیں پڑا۔

میرے بھائی میرے گھر میں کام کرنے کے بارے میں کچھ نہیں کہتے لیکن وہ اس کی تعریف بھی نہیں کرتے۔ بہرحال گھر کی عورتیں میرا خاص طور پر احترام کرتی ہیں۔

میں جانتا ہوں کہ جب آپ کچھ مختلف کرتے ہیں تو لوگ پہلے مذاق اڑاتے ہیں، پھر تنقید کرتے ہیں اور آخر میں اسے قبول کرنے لگتے ہیں۔

میں ابھی پہلے مرحلے میں ہوں یعنی مذاق کے لیے تختۂ مشق!

(یہ کہانی ایک ایسے نوجوان کی ہے جنھوں نے بی بی سی کے صحافی نیلیش دھوترے سے بات کی۔ ان کی شناخت پوشیدہ رکھی گئی ہے۔ اس سیریز کی پروڈیوسر سوشیلا سنگھ ہیں)