باپ کی لاش کے ساتھ کھڑے بچے کی دل سوز تصویرپر 30 لاکھ کے عطیات

This photo of the worker's 11-year-old son sobbing next to his body went viral.

،تصویر کا ذریعہTwitter

سوشل میڈیا پر ایک بچے کی اپنے باپ کی لاش کے ساتھ کھڑے روتے ہوئے دل سوز تصویر سامنے آنے کے بعد صارفین نے تیس لاکھ روپے چندہ جمع کر کے اس کے خاندان کو بھیج دیا ہے۔

یہ تصویر ٹوئٹر پر 7000 مرتبہ شیئر کی گئی ہے۔

27 سالہ انیل انڈیا میں دارالحکومت دلی میں گٹر صاف کرنے کا کام کرتے تھے۔ کام کے دوران جب انھیں گٹر میں اتارنے والی رسی ٹوٹی تو وہ گر کر ہلاک ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیے

کچھ اندازوں کے مطابق انڈیا میں ہر سال گٹر صاف کرنے والے سو سوریج ورکر ایسے ہی واقعات میں مارے جاتے ہیں۔

ورکروں کی نمائندہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ انھیں مناسب حفاظتی سامان مہیا نہیں کیا جاتا۔

ہندوستان ٹائمز کے رپورٹر شیو سنی نے پیر کے روز یہ تصویر شیئر کی تھی۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ منظر دیکھ کر ان کا دل دہل کر رہ گیا تھا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

وہ کہتے ہیں ’میں ایک کرائم رپورٹر ہوں اور میں نے دنیا میں بہت اندوہناک واقعات دیکھے ہیں مگر یہ ایک ایسی چیز تھی جو میں نے کبھی نہیں دیکھی تھی۔‘

انھوں نے بتایا کہ یہ تصویر انھوں نے انیل کی آخری رسومات سے چند لمحے قبل بنائی تھی۔ ’میں صرف گٹر صاف کرنے والوں کی ہلاکتوں کی طرف توجہ دلانا چاہتا تھا۔ یہ تصویر اس خاندان کی کہانی بیان کرتی تھی۔‘

شیو سنی نے بتایا کہ یہ خاندان آخری رسومات کے اخراجات بھی نہیں اٹھا سکتا تھا اور اس کی مدد ان کے محلے کے لوگوں کی تھی۔ محلے والوں نے شیو سنی کو بتایا کہ انیل کا چار ماہ کا بیٹا ایک ہفتے پہلے ہی نمونیہ سے مر گیا تھا کیونکہ انیل اس کی دوا نہیں خرید سکتے تھے۔

انیل کے سوگوران میں دو بیٹیاں بھی شامل ہیں جن کی عمریں 7 اور 3 ہیں۔

سنی کی ٹوئٹ پر اودے فاؤنڈیشن کی نظر پڑی جس نے کیٹو نامی ایپ کی مدد سے چندہ جمع کیا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

سنی کہتے ہیں کہ ’یہ بالکل غیر متوقع تھا۔‘ وہ بتاتے ہیں کہ جہاں بالی وڈ ستاروں نے بھی ان سے رابطہ کیا، وہاں غریب لوگوں نے بھی دس دس روپے چندہ جمع کرایا۔

سوشل میڈیا پر سوالات اور لوگوں کے ہمددرانہ بیانات کی وجہ سے سنی واپس اس خاندان کے پاس گئے۔

جب سنی نے انیل کے بیٹے سے بات کی تو اس نے بتایا کہ وہ کبھی کبھی اپنے والد کے ساتھ کام پر جاتا تھا اور اس کا کام ہوتا تھا کہ اپنے باپ کے کپڑے اور جوتے سنبھال کر رکھے۔

اس بچے نے کہا کہ میرا باپ کہتا تھا کہ ابھی میرا گٹر میں اترنے کا وقت نہیں آیا ہے۔