آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایوریج کتنا دیتی ہے؟
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
انڈیا اور پاکستان میں آپ مہنگی سے مہنگی گاڑی خریدنے جائیں یا آپ کی نظر چاند ستاروں پر ہو، ذہن میں پہلا سوال یہ ہی آتا ہے کہ 'ایوریج کتنا دیتی ہے؟'
بس، ہم ایسے ہی ہیں۔ انڈیا میں آج بھی آٹو میٹک ٹرانسمشن والی گاڑیاں زیادہ نہیں بکتیں کیونکہ عام طور پر لوگ مانتے ہیں کہ 'وہ تیل پیتی ہیں۔' اس لیے جب عمران خان نے گھر سے دفتر آنے کے لیے ہیلی کاپٹر استعمال کیا، تو ہنگامہ ہونا ہی تھا۔
لیکن ہونا نہیں چاہیے تھا کیونکہ 55 روپیے کلومیٹر لاگت اتنی کم بھی نہیں جتنا کہ کچھ لوگ سمجھ رہے ہیں۔ اگر ایک آزادانہ سروے کرایا جائے تو شاید معلوم ہو کہ اعتراض کرنے والے زیادہ تر ایسے لوگ ہیں جن کے پاس اپنے ہیلی کاپٹر نہیں ہیں۔ لیکن انھیں اتنا تو معلوم ہونا چاہیے کہ ڈرائیونگ کی اچھی عادتوں اور بہتر ٹکنالوجی کے استعمال سے 'ایوریج' پلک جھپکتے ہی بڑھایا جاسکتا ہے۔
یہ ہوائی باتیں نہیں!
انڈیا نے جب ستمبر 2014 میں مریخ پر خلائی جہاز 'منگل یان' بھیجا تھا تو وزیراعظم نریندر مودی نے سینہ ٹھونک کر یہ اعلان کیا تھا کہ اس مشن پر فی کلومیٹر آٹو رکشا کے کرائے سے بھی کم لاگت آئی ہے۔
نریندر مودی نے کہا تھا کہ احمد آباد میں آٹو والے ایک کلومیٹر کا دس روپے کرایہ لیتے ہیں اور منگل یان پر صرف سات روپیے فی کلومیٹر لاگت آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے یہ بات نیو یارک میں بھی دہرائی تو ناسا کے بڑے بڑے سائنسدانوں نے سر کھجاتے ہوئے سوچا ہوگا کہ واقعی خلائی جہاز ہی بھیجا ہے، کہیں ایسا تو نہیں کہ آٹو رکشا ہی بھیج دیا ہو، جنوب ایشیا میں 'جگاڑ' بہت چلتا ہے!
ناسا میں اگر کسی کو اس وقت ایسا لگا ہو تو پھر وہ آٹو رکشا چلانے والوں کا مزاج ٹھیک سے نہیں سمجھتے۔ مجھے یاد ہے کہ اس وقت میں نے لکھا تھا کہ آٹو رکشا والے اکثر ہر اس جگہ جانے کے لیے فوراً تیار ہو جاتے ہیں جہاں آپ کو نہ جانا ہو۔
آپ ان سے اگر کہیں کہ بھائی مریخ جانا ہے، چلوگے کیا، تو اس جواب کے لیے تیار رہنا چاہیے کہ میں تو چاند کی طرف جا رہا ہو، وہاں چھوڑ سکتا ہوں، وہاں سے دوسرا آٹو لے لینا۔
اب ذہن میں یہ خیال بھی آیا ہے کہ پاکستان کی طرح انڈیا میں بھی وزیر اعظم کے دعوے کو کیوں چیلنج نہیں کیا۔ مریخ تک کا سفر 65 کروڑ کلومیٹر کا ہے، اگر کسی آٹو والے سے تھوڑی بھی سودے بازی کی جاتی تو شاید پانچ روپے کلومیٹر میں بھی مان جاتا اور حکومت کم سے کم 130 کروڑ روپے بچا سکتی تھی جسے اب سرکاری خزانے کا نقصان مانا جانا چاہیے۔
لیکن حکومت کا شاید جواب ہوتا کہ کئی آٹو والوں سے بات کی تھی، سب نے یہ ہی کہا کہ وہاں سے خالی واپس آنا پڑے گا، وہاں گھنٹوں انتظار کرو، سواری کہاں ملتی ہے؟
بہرحال، پاکستان میں بحث اس بات پر ہونی چاہیے کہ اگر انڈیا مریخ تک مشن سات روپیے فی کلومیٹر میں بھیج سکتا ہے تو عمران خان کی پرواز پر تقریباً چار گنا لاگت کیوں آرہی ہے؟
آپ نے شاید اس امیر آدمی کے بارے میں سنا ہو جو ایک بڑے برینڈ کی مہنگی گاڑی خرید کر لایا جو جدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ تھی۔ چھ مہینے تک توگاڑی جم کر چلی پھر ایک دن اچانک راستے میں رک گئی۔
مسئلہ ڈرائیور کی سمجھ میں نہیں آیا تو کمپنی کے ماہرین کو بلایا گیا۔ اس نے گاڑی چیک کی اور معصومیت سے بولا کہ سر کوئی خاص بات نہیں ہے، اس گاڑی میں ہم انجن لگانا بھول گئے تھے، آج ہی لگوا دیتا ہوں۔
مالک نے پوچھا کہ پھر گاڑی اتنے دن سے کیسے چل رہی تھی؟
جواب ملا، سر، چھ مہینے تو ہماری گاڑیاں "ریپیوٹیشن" (کمپنی کے نام) پر بھی چل جاتی ہیں۔
اب بس دو تین چیزیں ضرور چیک کی جانی چاہئیں۔ ہیلی کاپٹر میں انجن ہے یا نہیں، اسے خریدے ہوئے چھ مہینے پورے ہوگئے ہیں یا نہیں اور ہیلی کاپٹر بنانے والی کمپنی وزیر اطلاعات کے دعوے کو اپنے اشتہارات میں استعمال کر رہی ہے یا نہیں؟