چین: اویغوروں کو کیمپوں میں رکھنے پر اقوام متحدہ کی تشویش

Uighur man

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنچین نے ان الزامات کی تردید کی ہے تاہم انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ کچھ مذہبی انتہا پسندوں کو 'ری ایجوکیشن' کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ انھیں چین میں اویغور برادری کی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں پر تشویش ہے اور انھوں نے چینی حکومت سے کہا ہے کہ انسدادِ دہشتگردی کا کہہ کر جنھیں گرفتار کیا گیا ہے انھیں رہا کیا جائے۔

یہ بیان اقوام متحدہ کی ایک کمیٹی نے اس وقت جاری کیا ہے جب انھیں ایک اجلاس میں بتایا گیا کہ سنکیانگ صوبے میں مسلمان اویغوروں کو ’ری ایجوکیشن کیمپوں‘ میں رکھا گیا ہے۔

چین نے ان الزامات کی تردید کی ہے تاہم انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ کچھ مذہبی انتہا پسندوں کو ’ری ایجوکیشن‘ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

چین اپنے صوبے سنکیانگ میں امن میں خلل کے لیے علیحدگی پسندوں اور اسلامی عسکریت پسندوں کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔

اس ماہ کے آغاز میں اقوام متحدہ کی نسلی امتیاز کے خاتمے کے لیے بنائی گئی کمیٹی کا کہنا تھا کہ مصدقہ اطلاعات کے مطابق بیجنگ نے ’اویغور خطے کو ایک ایسے علاقے میں تبدیل کر دیا ہے جو کہ ایک انٹرنمنٹ کیمپ معلوم ہوتا ہے۔‘

چین نے اس کے جواب میں کہا تھا کہ اویغور برادری کو مکمل حقوق حاصل ہیں۔ تاہم چین نے ایک نایاب اعترافی بیان میں کہا کہ ’جو لوگ مذہبی انتہا پسندی کی وجہ سے گمراہ ہیں ان کی ری ایجوکیشن میں مدد کی جائے گی۔‘

سنکیانگ صوبے میں کئی سالوں نے وقتاً فوقتاً شورش جاری رہتی ہے۔

اقوام متحدہ کیا کہتی ہے؟

اقوام متحدہ کی کمیٹی نے جمعرات کو اپنا مشاہدہ ظاہر کرتے ہوئے چینی قوانین میں ’دہشتگردی کی بہت وسیع تعریف، انتہا پسندی کے مبہم حوالے، اور علیحدگی کی غیر واضح تعریف‘ پر تنقید کی۔

An Uighur woman holds the IDs of her relatives who are currently detained, as she and others protest on a street in July, 2009

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنUighur protesters pictured in 2009 wield the ID cards of detained relatives

کمیٹی نے چینی حکومت سے کہا کہ وہ:

  • بغیر فردِ جرم کے لوگوں کو حراست میں رکھنا ختم کر دیں
  • موجودہ حالات میں حراست میں لیے گئے افراد کو رہا کریں
  • حراست میں لیے گئے افراد کی تعداد اور وجوہات بیان کریں
  • نسلی اور مذہبی بنیادوں پر امتیاز کرنے کے الزامات کی غیر جانبدارانہ تفتیش کروائی جائے

چین پر الزام کیا ہے؟

ہیومن رائٹس تنظیموں ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے اقوام متحدہ کو دستاویزات جمع کروائے ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ لوگوں کو بڑے پیمانے پر حراست میں لیا گیا ہے اور قیدیوں کو چینی صدر شی جن پنگ کے نام پر بیعت لینے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

ادھر ورلڈ اویغور کانگریس نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ قیدیوں کو فردِ جرم کے بغیر رکھا گیا ہے اور انھیں کمیونسٹ پارٹی کے نعرے لگانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

رپورٹس میں کھانے کی کمی اور تشدد کی اطلاعات بھی دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی الزامات لگایا جا رہا ہے کہ قیدیوں کو اپنے وکیل رکھنے کی اجازت بھی نہیں ہے۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کا بیان ایک ایسے وقت پر آیا ہے جب چین میں مختلف علاقوں میں مذہبی تناؤ بڑھ رہا ہے۔