انڈین ریاست تریپورا میں ’افواہیں روکنے کے لیے‘ انٹرنیٹ بند کر دیا گیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مشرقی انڈیا میں موبائل فون پر پھیلنے والی افواہوں کے باعث ہجوم کے ہاتھوں تین افراد کی ہلاکت کے بعد حکام نے 48 گھنٹوں کے لیے انٹرنیٹ اور ایس ایم ایس تک رسائی منقطع کر دی ہے۔
مشرقی ریاست تریپورا میں یہ تین افراد جمعرات کے دن تین مختلف واقعات میں ہلاک کیے گئے۔
انڈیا میں حالیہ ہفتوں کے دوران وٹس ایپ کے ذریعے متعدد جھوٹی افواہیں پھیلائے جانے کے واقعات سامنے آئے ہیں جن کے بعد تشدد ہوا ہے۔ عام طور پر تشدد کا نشانہ بننے والے لوگ باہر سے آئے ہوئے ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
ان لوگوں کو زیادہ تر مویشی چوری یا بردہ فروشی کے الزام میں پیٹ کر ہلاک کر دیا جاتا ہے۔
تریپورا پولیس کی ترجمان سمرتی رنجن نے کہا: 'انتظامیہ نے افواہیں روکنے کے لیے اگلے 48 گھنٹوں کے لیے انٹرنیٹ اور ایس ایم ایس سروس معطل کر دی ہے۔'
ایک مقتول سکانتا چکرورتی کو حکام نے فریضہ سونپا تھا کہ وہ لوگوں کو افواہیں پھیلانے سے روکیں۔
سابروم کے علاقے میں لوگوں نے چکرورتی کو اس وقت لاٹھیاں اور اینٹیں مار کر ہلاک کر ڈالا جب وہ میگا فون کے ذریعے لوگوں کو افواہیں اور من گھڑت خبریں پھیلانے سے متعلق خبردار کر رہے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس ترجمان نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ چکرورتی موقعے ہی پر ہلاک ہو گئے جب کہ ان کا ڈرائیور زخمی ہو گیا۔
اس سے چند گھنٹے قبل ایک ہزار افراد پر مبنی ایک ہجوم نے اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے تاجروں پر ہلہ بول کر ایک کو ہلاک جب کہ دوسرے کو شدید زخمی کر دیا۔
ہجوم کا خیال تھا کہ یہ لوگ بردہ فروش ہیں اور بچوں کو اغوا کر کے بیچتے ہیں۔
تاجروں نے اپنی گاڑی ایک فوجی کیمپ میں داخل کر کے جان بچانے کی کوشش کی لیکن بلوائی وہاں بھی داخل ہو گئے اور فوجیوں کی کوشش کے باوجود تاجروں کو گاڑی سے نکال کر انھیں پیٹنا شروع کر دیا۔ اس دوران ایک فوجی بھی زخمی ہو گیا۔
تصویروں میں کیمپ کے اندر تباہ شدہ گاڑی دیکھی جا سکتی ہے۔
سمرتی نے بتایا کہ مقتول کا نام ظاہر خان تھا۔
اس سے پہلے اسی علاقے میں ایک عورت کو پیٹ کر ہلاک کر دیا تھا۔ اس پر بھی بردہ فروشی کا الزام تھا۔
انتظامیہ نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور چکرورتی کو اسی مقصد کے لیے بھیجا گیا تھا لیکن وہ خود مارے گئے۔
انڈیا میں شورش کے دوران گڑبڑ پھیلنے سے روکنے کے لیے انٹرنیٹ کی سہولت معطل کرنے کے واقعات عام ہیں۔










