آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دہلی میں شدید گرمی اور گرد و غبار کے بادل، شہریوں کو مشکلات
انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں شہری غیر معمولی گرد و غبار کے بادلوں سے فضائی آلودگی اور شدید موسم کا سامنا کر رہے ہیں۔
شہریوں کی جانب سے سانس کی تکلیف کی شکایات کی گئی ہیں جبکہ بہت سے افراد کا کہنا ہے کہ اب یہ شہر رہنے کے قابل نہیں رہا۔
ریاست کی حکومت کی جانب سے تعمیرات کے تمام کام روک دیے گئے ہیں اور شہر کی سڑکوں پر پانی کے چھڑکاؤ کے لیے فار بریگیڈز تعینات کیے گئے ہیں۔
اسی بارے میں مزید پڑھیں!
لوگوں کو جس قدر ممکن ہو گھروں کے اندر رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حالیہ صورتحال یہ ہے کہ گرد وغبار میں زہریلا مواد بھی شامل ہے۔
سینٹر فار سائنس اینڈ انوائرمینٹ کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر انومتا رائے چودھری نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ 'آلودگی کی سطح عام دنوں سے 9-8 گنا زیادہ ہے، زہریلا مواد ہمارے اندر جارہا ہے، جس سے صحت کے شدید مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دہلی کا شمار دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں ہوتا ہے لیکن حالیہ موسمی صورتحال کی وجہ سے یہاں کے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
بہت سے افراد اپنے خدشات کا اظہار سوشل میڈیا پر کر رہے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس حوالے سے اقدامات کرے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گرد و غبار کے طوفان کا ذمہ دار ہمسایہ صحرائی ریاست راجستھان کو قرار دیتے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے ڈاکٹر کلدیپ شری واستو نے بی بی سی کو بتایا کہ 'پری مون سون میں یہ رجحان غیر معمولی نہیں ہے۔'
'لیکن اس بار مون سون کی بارشوں میں تاخیر سے گرد و غبار کی فضا زیادہ دیر تک قائم رہی ہے۔'
دہلی میں ہر سال نومبر اور دسمبر میں فضائی آلودگی میں اس وقت اضافہ ہوتا ہے جب ہمسایہ ریاستوں پنجاب اور ہریانہ میں کسان فصلوں کی کٹائی کے بعد کھیتوں میں آگ لگاتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق گذشتہ سال دہلی کی کچھ علاقوں میں آلودگی کی سطح محفوظ سطح سے 30 گنا سے بھی تجاوز کر گئی تھی۔
اس صورتحال میں بہتری دیکھی گئی تھی تاہم رواں سال جون میں صوترحال ایک بار پھر 'معتدل' سے 'شدید' ہوگئی ہے۔