انڈیا: 'ماں باپ نے بیٹی کا ریپ کرنے والوں سے پیسے لیے'

انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں ایک لڑکی اغوا کر لی جاتی ہے، اس کے ساتھ اجتماعی ریپ ہوتا ہے، معاملہ پولیس کے پاس پہنچتا ہے اور مشتبہ افراد پکڑے جاتے ہیں۔

ابھی تحقیقات چل رہی ہیں کہ اچانک اس معاملے میں ایک نیا موڑ آ جاتا ہے۔

ریپ کا شکار لڑکی نے اب اپنے والدین پر سنگین الزامات لگائے ہیں اور متاثرہ نابالغ لڑکی ایک بار پھر پولیس کے پاس یہ شکایت لے کر پہنچی ہے کہ اس کے ماں باپ نے اس میں لڑکی کا بیان بدلوانے کے لیے پیسے لیے ہیں۔

ستمبر سنہ 2017 میں دہلی میں ایک کم سن لڑکی کو اغوا کر لیا گیا اور اس کے ساتھ اجتماعی ریپ کیا گيا تھا۔

ماں گرفتار، والد فرار

دہلی پولیس نے کہا کہ لڑکی کی ماں کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس کے والد کو تلاش کی جا رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ فی الحال مفرور ہے۔

یہ نیا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب لڑکی پانچ لاکھ روپے نقد لے کر پولیس سٹیشن پہنچی۔ متاثرہ لڑکی کے مطابق یہ رقم ملزمان سے اس کے والدین نے لی تھی۔

پولیس ڈپٹی کمشنر ایم این تیواری نے بی بی سی کو بتایا: 'ہمارا خیال ہے کہ ملزمان نے متاثرہ لڑکی کے والدین کو پیسے دے کر معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی ہے۔‘

انھوں نے مزید بتایا: ’لڑکی کو اس بات کا علم ہو گيا اور اسے یہ بھی پتہ چلا کہ اس کے ماں باپ نے پیسے کہاں چھپا رکھے ہیں۔ اس کے والد کی گرفتاری کے بعد ہی تفصیلات سامنے آئیں گی۔'

پولیس نے لڑکی کے والدین اور مبینہ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر دیا ہے۔ اس معاملے میں پہلی ایف آئی آر ستمبر میں درج کی گئی تھی۔

20 لاکھ کا لالچ

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق متاثرہ نے سنہ 2017 میں بتایا تھا کہ دو افراد نے اس کا ریپ کیا تھا جس کے بعد انھیں گرفتار کر لیا گيا تھا۔

لیکن ان میں سے ایک عبوری ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

اس کے بعد اس نے لڑکی کے والدین سے رابطہ کیا اور انھیں 20 لاکھ روپے دینے کا لالچ دیا تاکہ وہ اپنی بیٹی کو بیان تبدیل کرنے اور کیس واپس لینے کے لیے راضی کر سکیں۔

اخبار ڈکن کرانیکل کا کہنا ہے کہ متاثرہ لڑکی اپنے پڑوسی کی مدد سے پولیس تک پہنچی۔

سنہ 2012 میں دہلی میں ایک چلتی بس میں ایک 23 سالہ لڑکی کے ساتھ ہونے والے گینگ ریپ اور قتل کے بعد جنسی تشدد کے معاملے درج کرانے والوں کی تعداد میں اضافہ نظر آيا ہے۔

اس کے بعد اس کے متعلق قوانین میں مزید سختی لائی گئی تاہم ملک بھر میں عورتوں اور بچوں کے خلاف جنسی تشدد کے واقعات میں کمی نہیں آ سکی۔

کچھ دنوں پہلے ہی جموں کے علاقے کٹھوعہ میں ایک آٹھ سالہ بچی کے ساتھ ریپ کے بعداسے قتل کر دیا گیا جبکہ اتر پردیش کے اناؤ میں ایک لڑکی سے ریپ کے بعد اس کے والد کی پولیس حراست میں موت پر ملک گیر پیمانے پر مظاہرے ہوئے ہیں۔