امریکی ویزہ کے لیے برہنہ ہونے سے مسئلہ نہیں لیکن اپنی حکومت کو نام بتانے پر بھی اعتراض: انڈین وزیر

انڈیا کے ایک وزیر کے بائیو میٹرک کے ذریعے شناخت کے متنازع نظام کے حوالے سے بیان نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا ہے۔

ایلفونس کننتھنم کا کہنا تھا کہ ’انڈینز کو امریکی ویزہ کے لیے برہنہ ہونے پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہوتا لیکن آدھار سکیم پر ذاتیات کا مسئلہ ہو جاتا ہے۔‘

یہ واضح نہیں کہ ان کا اصل مطلب کیا تھا لیکن شاید وہ ایئر پورٹ پر برہنہ کر کے تلاشی لینے کے عمل کی جانب اشارہ کر رہے تھے۔

جب سے آدھار سکیم کا آغاز ہوا ہے ناقدین کو اس کے ڈیٹا سیفٹی پر تشویش ہے۔

آدھار کارڈ کے بارے میں مزید پڑھیے

جنوری میں ایک انڈین صحافی نے کہا تھا کہ انھوں نے ایک ایجنٹ کو صرف پانچ سو روپے دے کر آدھار ویب سائٹ کے ذریعے عام شہریوں کی ذاتی معلومات تک رسائی حاصل کر لی تھی۔ تاہم حکومت نے اس کو ڈیٹا کی چوری قرار دیا تھا۔

ایک ارب سے زائد انڈینز آدھار میں اپنا نام درج کروا چکے ہیں اور انھیں بائیو میٹرک کے ذریعے اپنی معلومات کا اندراج کروانے کے بعد 12 ہندسوں پر مشتمل ایک مخصوص نمبر دیا گیا ہے۔

سیاحت، الیکٹرونکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر ایلفونس کننتھنم نے ان بھارتیوں پر تنقید کی ہے جنھوں نے اپنی معلومات حکومت کو دینے کی مخالفت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں گوروں کے سامنے اپنے پورے جسم کو برہنہ کرنے، آنکھوں کے پپوٹوں اور انگلیوں کے نشان دینے میں بالکل بھی کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’لیکن جب انڈیا کی حکومت، جو کہ آپ کی حکومت ہے، آپ سے آپ کا نام اور پتہ پوچھتی ہے اور اسے زیادہ کچھ نہیں تو پورے ملک میں ایک انقلاب آجاتا ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ یہ تو کسی شخص کی ذاتی زندگی میں مداخلت ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سکیم کے ذریعے بائیو میٹرک ڈیٹا جو حاصل کیا جاتا ہے وہ حکومت کے پاس محفوظ رہتا ہے۔

ایلفونس کننتھنم نے بتایا کہ انھیں امریکہ ویزہ حاصل کرنے کے لیے 10 صفحات پر مشتمل فارم بھرنا پڑا تھا۔

’دس صفحات پر مشتمل وہ معلومات جو آپ اپنی بیوی یا شوہر تک کو نہیں بتاتے، ایک گورے کو دے دیتے ہیں۔ ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔‘

دوسری جانب بہت سے صارفین نے فوراً سوشل میڈیا کا رخ کیا اور ان دونوں صورتحالوں کے درمیان فرق بیان کرنا شروع کر دیا۔