آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا: ’سب کے لیے آدھار کارڈ کا استعمال لازمی نہیں‘
انڈیا کی سپریم کورٹ نے کہا ہے ملک میں جن لوگوں کے پاس آدھار کارڈ ہے انھیں اپنے انکم ٹیکس گوشوارے داخل کرتے وقت اس کی تفصیلات بھی شامل کرنا ہوں گی۔
لیکن عدالت نے فی الحال ان لوگوں کو اس فیصلے کے دائرے سے باہر رکھا ہے جن کے پاس آدھار کارڈ نہیں ہیں۔
دہلی میں بی بی سی کے نامہ نگار سہیل حلیم کے مطابق انڈیا میں بنیادی طور پر دو کارڈ اہم سمجھے جاتے ہیں، ایک ’پین کارڈ‘ یا مستقل اکاؤنٹ نمبر جو محکمہ انکم ٹیکس کی جانب سے جاری کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی شخص کی انکم ٹیکس سے متعلق تمام معلومات ایک ہی کھاتے سے منسلک کی جاسکے۔
اور دوسرا ہے آدھار کارڈ، جو بنیادی طور پر ایک شناختی کارڈ ہے۔ اس میں بھی ایک نمبر جاری کیا جاتا ہے، لیکن فرق یہ ہے کہ یہ ایک بائیو میٹرک کارڈ ہے، یعنی اسے جاری کرتے وقت آنکھوں کا سکین اور انگلیوں کے نشان ایک ڈیٹا بیس میں ریکارڈ کر لیے جاتے ہیں۔
حکومت نے ٹیکس کی چوری روکنے کے لیے پہلے پین کارڈ متعارف کرایا تھا، لیکن اب اسے لگتا ہے کہ اس کام کے لیے آدھار کو لازمی بنانا بہتر ہے کیونکہ کسی بھی شخص کے لیے ایک سے زیادہ آدھار کارڈ حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس لیے حکومت نے جولائی سے انکم ٹیکس گوشواروں میں آدھار کا نمبر شامل کرنا لازمی کردیا تھا۔
اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔ مخالفت کرنے والوں کا دعویٰ ہے کہ ملک میں حساس نجی معلومات کو محفوظ رکھنے کا فی الحال مناسب انتظام نہیں ہے اور یہ ڈیٹا غلط ہاتھوں میں جا سکتا ہے۔
سپریم کورٹ میں حکومت کا موقف تھا کہ آدھار کارڈ کو انکم ٹیکس گوشواروں اور ’پین کارڈ‘ سے جوڑنے کے دو بنیادی فائدے ہوں گے، ایک یہ کہ ٹیکس کی چوری کم ہوگی اور دوسرا دہشت گردی کی اعانت کے لیے فنڈنگ پر بھی کنٹرول کیا جاسکے گا۔
لیکن سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں بیچ کا راستہ اختیار کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ جن لوگوں کے پاس آدھار کارڈ موجود ہے، انھیں انکم ٹیکس گوشوارے داخل کرتے وقت اس کی تفصیل بھی شامل کرنی ہوگی، لیکن باقی لوگ بغیر آدھار کے بھی اپنے گوشوارے داخل کرسکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سپریم کی ایک آئینی بنچ آدھار کارڈ سے متعلق خدشات پر ایک پٹیشن کی سماعت کررہی ہے۔ عدالت نے کہا کہ بنچ کا فیصلہ آنے تک سب کے لیے آدھار کارڈ کا استعمال لازمی نہیں ہوگا۔
آدھار کارڈ کی سکیم کانگریس کی حکومت نے شروع کی تھی اور اس کا منصوبہ یہ تھا کہ فلاحی سکیموں کےتحت امداد نقد کی شکل میں دی جائے اور یہ پیسہ براہ راست لوگو ں کے کھاتوں میں منتقل کیا جائے۔
بی جے پی پہلے آدھار کارڈ کی مخالفت کررہی تھی لیکن اقتدار میں آنے کے بعد اس نے آدھار کو اپنی سکیموں میں کلیدی اہمیت دی ہے۔