کیا خواتین کو بوڑھا ہونے کا حق نہیں ہے؟

    • مصنف, پدما میناکشی
    • عہدہ, بی بی سی نامہ نگار

بالی وڈ اداکارہ سری دیوی کے انتقال کے بعد جس طرح میڈیا نے اسے کور کیا اس پر کئی جگہ تنقید ہوئی۔

اسی سے متعلق جنوبی انڈیا کی فلم انڈسٹری کی اداکارہ املا نے ایک فیس بک پوسٹ میں لکھا ہے کہ معاشرے میں خواتین کی بڑھتی عمر کتنا بڑا مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق انڈین معاشرے میں خواتین کو ہمیشہ جوان اور خوبصورت دکھنے کے دباؤ میں جینا پڑتا ہے۔

املا نے بی بی سی سے کہا کہ تا عمر جوان دکھنے کا دباؤ صرف ہیروئنوں پر نہیں بلکہ ہر خاتون پر ہوتا ہے۔ املا نے کہا کہ ’میں نے بہت سے پیشہ ورانہ اور سماجی گروپز میں یہ بات دیکھی ہے کہ اس بات پر بڑا زور دیا جاتا ہے کہ خواتین کیسی دکھ رہی ہیں۔ ‘

وہ کہتی ہیں کہ انہیں یہ نہیں معلوم کہ معاشی طور پر کمزور طبقے کی خواتین پر ہمیشہ خوبصورت دکھنے کا کتنا جنون سوار ہوتا ہے۔ لیکن یہ تو طے ہے کہ خوبصورت دکھنے والی خواتین سے وہ متاثر ضرور ہوتی ہوں گی۔

ذہنی دباؤ کی وجہ

املا کے مطابق خواتین یہ دباؤ اپنے اوپر اس لیے لے لیتی ہیں کیوں کہ یہ ایک طرح کی ذہنیت ہے کہ خواتین کو بوڑھا نہیں ہونا چاہیے۔ انہیں اپنی عمر کو وقت کے ساتھ روک لینا چاہیے۔ آپ دنیا کی کسی بھی مخلوق کو دیکھ لیجیے سبھی اپنی جوانی کے دنوں میں سب سے زیادہ خوبصورت دکھتے ہیں۔

املا نے کہا کہ ’جوانی وہ وقت ہوتا ہے جب کوئی بھی شخص ہر وقت خوبصورت لگتا ہے۔ لیکن آہستہ آہستہ جب آپ کی عمر بڑھنے لگتی ہے اور آپ ٹی وی پر جوانی کے دنوں میں لوگوں کو دکھائی دے چکے ہوتے ہیں تو لوگ آپ کی بڑھتی عمر کا موازنہ آپ کی انیس اور بیس برس والی خوبصورتی سے کرنے لگتے ہیں۔ لیکن کوئی ہمیشہ ایک جیسا کیسے دکھ سکتا ہے؟‘

لیکن یہ دباؤ سیلیبریٹی خود اپنے اوپر سوار کر لیتے ہیں یا میڈیا کی جناب سے ڈالا جاتا ہے؟

اس بارے میں املا نے کہا کہ ’سری دیوی کی موت کی خبر پڑھنے کے بعد یہ دباؤ اور بھی بڑھ گیا ہے۔ میں جہاں بھی جاتی ہوں میرا دھیان اس بات پر ہوتا ہے کہ لوگ میرے بارے میں کیا کہہ رہے ہیں؟ لوگ تو کچھ بھی بول دیتے ہیں وہ کہنے سے پہلے سوچتے نہیں ہیں کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ ان کے سوال بھی بڑے عجیب ہوتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ تمہارا رنگ کالا ہونے لگا ہے۔ کوئی کہتا ہے تم موٹی ہو گئی ہو۔ ایسا صرف میرے ہی ساتھ نہیں ہوتا ہے، سبھی کے ساتھ ہوتا ہے۔‘

فٹ رہنا ضروری ہے

اپنی فیس بک پوسٹ کے بارے میں املا نے کہا کہ انھوں نے ان خیالات کی وجہ سے ہی وہ سب کچھ لکھا تھا۔

ان کے مطابق ’خواتین کو چاہیے کہ وہ خود کو فٹ رکھنے پر غور کریں۔ لیکن اس کا مقصد کوئی خاص طرح کی فگر حاصل کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ ضروری ہے کہ جب آپ صبح اٹھیں تو اچھا محسوس کریں۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ہم زیادہ تھکا ہوا محسوس کرنے لگتے ہیں۔ ہمیں چلنے میں تکلیف ہونے لگتی ہے۔ ایسے میں ہمیں اپنے صحت پر دھیان دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔‘

معاشرے کی جانب سے پڑنے والے دباؤ کے بارے میں املا نے کہا کہ ’کئی مرتبہ جب صحافی مجھ سے انٹرویو کرنے آتے ہیں تو پوچھتے ہیں کہ میں اپنے شوہر کے لیے کیا کھانا پکاتی ہوں۔ اور جب میں بتاتی ہوں کہ کھانا بنانے کے لیے ہمارے گھر میں ایک خاتون نوکری کرتی ہیں تو وہ حیرانی کا اظہار کرتے ہیں۔ اس کے بعد بات چیت کے لیے ہمارے پاس زیادہ کچھ نہیں رہ جاتا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

اس سے سمجھا جا سکتا ہے کہ خواتین پر معاشرے کی طرف سے کس کس طرح کے دباؤ ڈالے جاتے ہیں۔

املا کا خیال ہے کہ خواتین کو اور بھی کئی طرح کے مشکل سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جیسا کہ شادی سے جڑے سوال، بچے پیدا کرنے اور کھانا پکانے کے بارے میں سوال۔

املا تمام خواتین کو پیغام دینا چاہتی ہیں کہ ’خوبصورتی کو سمجھ پانا کسی کے لیے ہماری نظر کے بارے میں بہت کچھ کہتا ہے۔ کسی کو اور بھی کئی طرح خوبصورت پایا جا سکتا ہے، مثال کے طور پر اس کی حمت، طاقت، عقل، ذمہ داریوں سے نباہ کرنے کی صلاحیت۔ ہمیں ان باتوں پر غور کرنا چاہیے۔‘

املا چاہتی ہیں کہ خواتین بے خوف اپنی بات سب کے سامنے رکھ سکیں اور پرانی اور غیر مناصب روایات کو توڑیں اور دوسروں کی بھی انہیں توڑنے میں مدد کریں۔