انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں جنازے بھی سکیورٹی رسک؟

    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سری نگر

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس کی خفیہ شاخ نے حکومت سے کہا ہے کہ شدت پسندوں کے جنازوں میں بھاری تعداد میں لوگوں کی شرکت سے نوجوان مسلح تشدد کی طرف راغب ہو جاتے ہیں لہٰذا اگر کوئی شدت پسند مارا جائے تو اس کے جنازے میں عوام کی شرکت پر پابندی عائد کی جائے۔

گو یہ ابھی باقاعدہ سرکاری پالیسی نہیں ہے اور نہ اس بارے میں کوئی اعلان ہوا ہے تاہم اس حوالے سے کشمیر میں سخت ناراضگی پائی جاتی ہے۔

جنوبی کشمیر کے اضلاع پلوامہ، کولگام، اننت ناگ اور شوپیاں میں شدت پسندوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ یہاں رہنے والے اکثر نوجوانوں کا کہنا ہے کہ حکومت ہند دراصل اُس حقیقت سے ڈرتی ہے جو ان جنازوں کے دوران عیاں ہو جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

شوپیان کے میر اقبال کہتے ہیں: 'شدت پسندوں کے جنازوں میں شرکت کے لیے لاکھوں لوگ جمع ہو جاتے ہیں، وہ آزادی کے حق میں اور انڈیا کے خلاف نعرے بازی کرتے ہیں۔ یہ اجتماعی جذبات کا اظہار ہوتا ہے۔ یہی سب تو انڈیا دیکھنا یا سننا نہیں چاہتا۔'

میر اقبال اس بات پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ 'کشمیرمیں اب جنازے بھی انڈیا کی سلامتی کے لیے خطرہ بن گئے۔'

پلوامہ کے ایک نوجوان نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر کہا کہ ’مقامی نوجوان مارا جائے تو اس کے جنازے میں لوگ کیوں شرکت نہیں کریں گے، میرا بھائی بھی مجاہد ہے، کل کو شہید ہو جائے گا تو اس کے جنازے میں لاکھوں لوگ آئیں گے، کیا آپ انھیں قتل کردو گے؟'

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا نہ صرف بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ مذہبی امور میں حکومت کی مداخلت ہے۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم کئی انجمنوں کے اتحاد کولیشن آف سول سوسائٹیز کے ترجمان خرم پرویز کہتے ہیں: 'قانونی طور تو یہ ممکن ہی نہیں کہ آپ کسی جنازے پر پابندی عائد کردیں لیکن پھر بھی یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’انڈیا نے محمد مقبول بٹ اور افضل گورو کو پھانسی کے بعد جیل میں دفن کیا اور لاشیں لواحقین کے سپرد نہیں کیں۔ امن و قانون کے نام پر یہ لوگ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔'

خرم مزید کہتے ہیں کہ کشمیر میں مسلح سرگرمی میں اضافہ کی بنیادی وجہ انڈین فورسز اور حکام کی زیادتیاں ہیں۔ 'اگر حکومت کو لگتا ہے کہ شدت پسند کے جنازے کو محدود کرکے حالات ٹھیک ہوں گے تو یہ سب سے بڑا مغالطہ ہے۔'

پولیس کے ایک اعلی افسر نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا: 'یہ کوئی پالیسی نہیں محض ایک تجویز ہے لیکن تجویز کے پیچھے دلیل ہے۔ شدت پسند کی لاش کو ایک علامت بنایا جاتا ہے، لاکھوں لوگ نعرے بازی کرتے ہیں اور اس جذباتی ماحول میں چند نوجوان بندوق اُٹھانے کی ٹھان لیتے ہیں۔ تشدد کا دائرہ وسیع ہوجاتا ہے۔ اسی سب کو روکنے کے لیے یہ مشورہ دیا گیا ہے۔'

مذکور افسر کا کہنا تھا کہ گذشتہ دو سال کے دوران اکثر ایسا ہوا کہ کسی شدت پسند کمانڈر کے جنازے میں ہی کئی نوجوانوں نے ٹھان لی کہ انھیں مسلح تشدد کی طرف جانا ہے۔

خیال رہے کہ نو جولائی سنہ 2016 جب مقبول مسلح کمانڈر برہان وانی ایک تصادم میں دو ساتھیوں سمیت ہلاک ہو گئے تو کشمیر کے اطراف سے لاکھوں لوگ ان کے آبائی قصبہ ترال کی طرف چل پڑے لیکن انھیں جگہ جگہ روکا گیا اور ہجوم نے مزاحمت کی تو ان پر گولیاں چلائی گئیں، جس کی وجہ سے درجنوں لوگ مارے گئے۔

اسی کاروائی کے ردعمل میں ایک طویل احتجاجی تحریک چھڑ گئی جس کے دوران 100 سے زیادہ نوجوان مارے گئے اور 15 ہزار زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں اکثریت ان کی تھی جو چھروں کے شکار ہوئے۔ چھروں کی وجہ سے سینکڑوں نوجوانوں کی آنکھیں متاثر ہوئیں اور درجنوں ایسے ہیں جو بینائی سے محروم ہو گئے۔