ایک تہوار: کتنی رسمیں کتنے نام

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سلمیٰ حسین
- عہدہ, ماہر طباخ، دہلی
جنوری نہ صرف نئے سال کی آمد کا بگل بجاتا ہے بلکہ کسانوں کی خوشیوں کا بھی ضامن ہے۔
ہندوستان ایک زرعی ملک ہے ملک ہے اور اچھی فصل کی خوشیاں ہر جگہ منائی جاتی ہیں خواہ وہ ہندوستان کا مشرقی حصہ ہو یا مغربی، جنوب ہو یا کہ شمال۔ ہر جگہ اس کا ایک نیا نام ہے۔ کہیں اسے لوہری کہتے ہیں تو کہیں پونگل، کہیں کھچڑی تو کہیں اگاڈی تو کہیں ماگھ بیہو۔
ہر سال دوسرے ہفتے کے اخیر میں جب زمین اپنا رخ سورج کی طرف کرتی ہے موسم بدل جاتا ہے اور یہ دن مکر سنکرانتی کہلاتا ہے۔ ہندو مذہب کی روایت کے مطابق 14 جنوری کو سورج دیوتا اپنے بیٹے شنی کے گھر جاتے ہیں اور اختلافات کے باوجود وہ ایک مہینہ وہیں رہتے ہیں۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ مکر سنکرانتی باپ بیٹے کے رشتے کو مضبوط اور استوار کرتا ہے۔
مغربی ہند کے صوبے گجرات اور مہاراشٹر میں مکر سنکرانتی مذہبی رنگ کے ساتھ تفریح کا سامان بھی مہیا کرتی ہے۔ رنگ برنگی پتنگوں سے آسمان بھر جاتا ہے۔ گھر کی چھتوں پر بچے بوڑھے پتنگ بازی میں مصروف نظر آتے ہیں کیونکہ اس دن سورج دیوتا مہربان ہوتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مہاراشٹر میں صبح صبح لوگ پانی میں تل کے دانے ڈال کر غسل کرتے ہیں۔ خواتین چندر کلا ساڑھی پہنتی ہیں۔ شکر سے لپٹے تل کے زیور نئی دلہن کو دیے جاتے ہیں۔
ہندوستان کے شمالی حصے میں یہ کھچڑی کہلاتا ہے۔ کسان گنے کی فصل کاٹتے ہیں اور خوشی سے گنگنا اٹھتے ہیں۔
گنے کا رس ٹن بھر چینی کی بوری
پھر بنی اس سے میٹھی میٹھی ریوڑی
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مل جل کر سارے کھائیں تل کے ساتھ
اور منائيں خوشیوں بھری لوہری
چاڑوں طرف گنے کی فصل لہلہاتی ہے۔ پھر گنے کٹ کر بیل گاڑیوں پر نظر آتے ہیں گاؤں گاؤں گڑ بنانے کے الاؤ روشن ہو جاتے ہیں اور فضا میں گڑ کی بھینی بھینی مہک پھیل جاتی ہے۔
دن بھر فصل کاٹ کر شام کو لوگ الاؤ کے پاس بیٹھ جاتے ہیں اور سورج دیوتا کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ لوہری کی آگ کسانوں کے دکھوں کے جلا کر اسی روشنی سے ان کی زندگی میں روشنی بھر دیتی ہے۔ گزرے سال کی تمام برائیاں اس آگ میں بس جل جاتی ہیں اور زندگی کانیا سال خوشیوں کے ساتھ وارد ہوتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لوہری سے جڑی کئی کہانیاں ہیں۔ مختلف ریاستوں میں مختلف نام۔ بہار میں دھان کی فصل کا ڈھیر کسان کا سرمایہ۔ جہاں دھان کا نذرانہ سورج دیوتا کے لیے ہے۔ اچھی فصل ان کی زندگی میں خوشیوں کا پیغام لائی ہے۔ اصلا یہ اناج کی پوجا کا تہوار ہے۔ نئے دھان سر لائی اور گڑ کا چڑوا بنایا اور کھایا جاتا ہے۔
ربیع کی فصل کاٹتے ہی پنجاب کا کسان ناچنے گانے لگتا ہے۔لوہری کا لفظ لو سے نکلا ہے جس کے معنی روشنی ہے۔ پنجاب کے دیہی علاقوں میں اسے لوہی کہتے ہیں۔
بچوں کی ٹولی گھر گھر جاکر لوہری کی سوغات مانگتی ہے اور لوہری کے گیت گاتی ہے۔ لوہری کے گیتوں میں دال بھٹی کا گیت بہت اہمیت رکھتا ہے۔ دلابھٹی کا اصل نام عبداللہ بھٹی تھا جو اکبر بادشاہ کے دور حکومت میں ایک راہزن تھا جو کہ غریبوں کا ہمدرد اور امیروں کا دشمن تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس نے سندی اور مندری نامی دو دوشیزاؤں کو ظالموں کے ہاتھ سے بچایا تھا۔ ان کی شادی کرائی اور انھیں شریفانہ زندگی دی۔ اب وہ پنجاب کا ہیرو بن گیا اور اس کی بہادری کے قصے گیتوں کی شکل میں بدل گئے۔
سندری مندری ہو
تیرا کون بچانے والا ہو
دلا بھائی ہو
سادے دے لوہری
تے تیری جیوے جوڑی

،تصویر کا ذریعہDIPTENDU DUTTA
ہندوستان کے جنوب میں فصل کا جشن پونگل کہلاتا ہے۔ پونگل چار دنوں پر مشتمل جشن ہے۔ پہلے دن سورج کی پوجا۔ دوسرے دن سورج کو مٹی کے برتن میں نئے چاول، دال اور گڑ کی کھیر کا نذرانہ، تیسرے دن گائے کی پوجا اور چوتھے دن رقص و سرود کی محفلیں۔
لوہری نہ صرف گرماہٹ لاتی ہے بلکہ بہار کی آمد کا پیغام بھی دیتی ہے۔ پھول کھل اٹھتے ہیں درختوں پر پتے اپنا رنگ دکھاتے ہیں اور فرش پر ہری ہری گھاس نکل آتی ہے۔ غنچے مسکراتے ہیں، چڑیاں چہچہاتی ہیں یعنی سب سری کو الوداع اور بہار کو خوش آمدید کہتے ہیں۔
٭ سلمیٰ حسین کھانا پکانے کی شوقین، ماہر طباخ اورکھانوں کی تاریخ نویس ہیں۔ ان کی فارسی زباندانی نے عہد وسطی کے مغل کھانوں کی تاریخ کے اسرار و رموز ان پر کھولے۔ انھوں نے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں اور بڑے ہوٹلوں کے ساتھ فوڈ کنسلٹنٹ کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔ سلمیٰ حسین ہمارے لیے مضامین کی ایک سیریز لکھ رہی ہیں۔







