آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
میانمار کی فوج کا ’روہنگیا مسلمانوں کی ہلاکتوں‘ میں ملوث ہونے کا اعتراف
میانمار کی فوج نے پہلی بار تسلیم کیا ہے کہ ریاست رخائن میں حالیہ کشیدگی کے دوران اس کے فوجی روہنگیا مسلمانوں کے قتل میں ملوث تھے۔
میانمار کی فوج کے مطابق تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ فوج کے چار اہلکاروں نے انڈن گاؤں میں دس لوگوں کو ہلاک کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان چاروں اہلکاروں نے دیہاتیوں کی ’ بنگالی دہشت گردوں‘ پر انتقامی حملے میں مدد کی۔
گذشتہ ماہ میانمار کی فوج نے اعلان کیا تھا کہ وہ انڈن گاؤں کے نزدیک ایک قبر سے ملنے والے دس انسانی ڈھانچوں کی تحقیقات کرے گی۔
ان تحقیقات کے نتائج کو فوج کے کمانڈر انچیف کے فیس بک صفحے پر جاری کیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ قتل عام دو ستمبر کو گیا گیا تھا۔
رپورٹ میں فوج نے روہنگیا عسکریت پسندوں کو’ بنگالی دہشت گرد‘ کا نام دیتے ہوئے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ دیہاتیوں اور سکیورٹی فورسز نے دس بنگلی دہشت گروں کو ہلاک کیا۔
اس کے ساتھ کہا گیا ہے کہ فوج ہلاکتوں میں ملوث اور قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرے گی۔
تاہم اس کے ساتھ یہ کہا گیا ہے کہ بدھ مت دیہاتیوں کو دہشت گردوں نے دھمکی دی اور اشتعال دلایا تھا جس کے ردعمل میں یہ واقعہ پیش آیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میانمار کے بارے میں مزید پڑھیے
میانمار پر الزامات ہیں کہ وہ رخائن ریاست میں نسل کشی کر رہا ہے اور گذشتہ برس اگست میں شروع ہونے والے پرتشدد واقعات میں ایک مہینے کے دوران کم از کم 6700 روہنگیا افراد کو قتل کیا گیا۔
پرتشدد واقعات کے نتیجے میں ساڑھے چھ لاکھ روہنگیا مسلمان ہمسایہ ملک بنگلہ دیش نقل مکانی پر مجبور ہوئے جبکہ ان افراد نے دیہات کو نذر آتش کرنے، خواتین اور لڑکیوں کے ریپ اور لوٹ مار کی دردناک کہانیاں بیان کیں۔
میانمار کی فوج عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی تردید کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ رخائن میں صرف روہنگیا دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔
میانمار نے ان الزامات کی تصدیق کے لیے صحافیوں اور غیر ملکی معائنہ کاروں کو اجازت نہیں دی کہ وہ ریاست میں جا کر تحقیقات کر سکیں۔
خیال رہے کہ گذشتہ برس اقوام متحدہ کی ایک اعلیٰ اہلکار ینگہی لی نے کہا تھا کہ میانمار میں فوج اور پولیس ملک کی روہنگیا مسلمان اقلیت کے خلاف 'انسانیت سوز جرائم' کی مرتکب ہو رہی ہیں۔
ینگہی لی کا کہنا تھا کہ انھیں ان الزامات کی تفتیش کے لیے میانمار کے شورش زدہ علاقے تک آزادانہ رسائی نہیں دی گئی تاہم بنگلہ دیش میں موجود پناہ گزینوں سے بات کر کے انھیں معلوم ہوا ہے کہ صورتحال ان کی توقعات سے کہیں بدتر ہے۔
روہنگیا کے خلاف فوجی آپریشن 25 اگست کو اس وقت شروع کیا تھا جب روہنگیا مسلح تنظیم اسرا نے 30 سے زائد پولیس چوکیوں پر حملے کیے۔
فوج نے اس آپریشن میں شہریوں کے قتل، دیہات کو نذر آتش کرنے، خواتین اور لڑکیوں کے ریپ اور لوٹ مار میں ملوث ہونے کی تردید کی تھی۔
خیال رہے کہ روہنگیا مسلمان بے وطن اقلیت ہیں جنھیں عرصہ دراز سے میانمار میں امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔