آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
راہل گاندھی کا 'پپو' ٹیگ ختم، اب وہ اعتماد سے وزیرِ اعظم مودی کو چیلنج کر سکتے ہیں
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
گجرات کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس پارٹی تو ہاری لیکن راہل گاندھی نہیں! اب وہ ایک نئے زیادہ پر اعتماد کردار میں نظر آئیں گے اور انھیں 'پپو' کہنے والے ان کی تضحیک کے نئے راستے تو تلاش کرتے رہیں گے لیکن اب یہ ٹیگ آسانی سے چپکے گا نہیں۔
یہ راہل گاندھی کے لیے بھی اچھی خبر ہے اور ملک میں جمہوریت کے لیے بھی۔
گجرات کا الیکشن راہل گاندھی کا 'بریکنگ آؤٹ' لمحہ ثابت ہوسکتا ہے۔ اگر آپ کو سپورٹس کا شوق ہے تو آپ نے دیکھا ہوگا کہ کسی بھی کھیل میں صفِ اول کے کھلاڑیوں کی صلاحیتوں میں زیادہ فرق نہیں ہوتا، بس ایک دن اچانک وہ ایک اچھی اننگز کھیلتے ہیں، اچھا گول کر دیتے ہیں یا ایک کانٹے کا مقابلہ جیت لیتے ہیں اور انھیں لگنے لگتا ہے کہ وہ کسی کو بھی ٹکر دے سکتے ہیں۔
یہ اعتماد کا کھیل ہے اور راہل گاندھی نے گذشتہ چند مہینوں میں دکھا دیا ہے کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کو نہ صرف چیلنج کرسکتے ہیں بلکہ اس میں انھیں مزا بھی آنے لگا ہے۔
راہل گاندھی کا مذاق اڑانے کے لیے سوشل میڈیا پر جو لطیفے گردش کرتے رہے ہیں، ان میں ہمیشہ صرف ایک ہی پیغام ہوتا ہے اور وہ یہ کہ وہ احمق ہیں اور سونیا گاندھی کی انگلی پکڑ کر ہی چل سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر سونیا گاندھی ان کے جوتوں کے سامنے 'ٹی جی آئی ایف' کیوں لکھتی ہیں؟ انھیں یہ یاد دلانے کے لیے کہ 'ٹوز گو ان فرسٹ' یعنی جب جوتے پہننے ہوں تو پہلے پنجا اندر ڈالیں!
یا جب وہ ہاتھ دھونے کے لیے واش روم گئے تو بیسن دھو کر کیوں باہر آئے؟ کیونکہ اندر لکھا تھا : واش بیسن!
یہ لطیفے خود بہ خود نہیں بنتے، ایک خاص مقصد سے بنائے جاتے ہیں جس کا ذکر خود راہل گاندھی اور سونیا گاندھی نے بھی کیا ہے۔
لیکن جس انداز میں انھوں نے گجرات کے نتائج آنے سے پہلے پارٹی کے صدر کا عہدہ سنبھالا اور جس طرح ریاست میں انتخابی مہم کی قیادت کی، اس سے یہ واضح پیغام ملتا ہے کہ اب ان کی جز وقتی سیاست کا دور ختم ہوگیا ہے۔ آخرکار وہ اپنی زیادہ پر کشش بہن پرینکا گاندھی اور والدہ سونیا گاندھی کے سائے سے باہر آنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیں
انتخابی نتائج آنے کے بعد اب شاید ہی کوئی ہو جو یہ نہ مانتا ہو کہ راہل گاندھی ہی نریندر مودی کے اصل چیلنجر بن کر ابھرے ہیں۔ دونوں کی مقبولیت میں اب بھی بہت فرق ہے، 'برانڈ مودی' کا پرچم اب ملک کی 19 ریاستوں میں لہرا رہا ہے، لیکن فی الحال قومی سطح پر اس ریس میں صرف دو ہی لوگ دوڑ رہے ہیں۔
راہل گاندھی اب ایک ایسے لیڈر کے طور پر ابھر سکتے ہیں جن کے ارد گرد وہ علاقائی جماعتیں متحد ہونے کے لیے تیار ہوسکتی ہیں جو بنیادی طور پر بی جے پی کے نظریاتی ایجنڈے سے اختلاف کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی کے لیڈر اکھیلیش یادو، بہار میں سابق وزیر اعلی لالو پرساد یادو اور مغربی بنگال میں ممتا بینرجی۔۔۔
یہ بھی پڑھیں
ملک میں آئندہ برس چار بڑی ریاستوں میں الیکشن ہونے ہیں اور چاروں میں ہی بی جے پی اور کانگریس کے درمیان براہ راست مقابلہ ہوگا۔ گجرات تو وزیر اعظم نریندر مودی کا مضبوط قلعہ ہے، لیکن کرناٹک، مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ ایک طرح سے 'نیوٹرل' گراؤنڈ ہوں گے۔
ان انتخابات سے طے ہوگا کہ قومی سیاست کیا رخ اختیار کرے گی۔ اگر کانگریس کرناٹک میں اپنی حکومت بچا لیتی ہے یا باقی تین ریاستوں میں کچھ اس طرح کا مقابلہ کرتی ہے جیسا گجرات میں دیکھا گیا تو پھر کچھ بھی ہوسکتا ہے۔
گجرات کے الیکشن کو ریاستی اسمبلی کے تناظر میں دیکھنا غلط ہوگا، یہاں سے 2019 کے پارلیمانی انتخابات کے لیے نئے راستے کھلے ہیں، اور جیسا کسی نے لکھا ہے: 'یہ الیکشن جیتنے والا دوسرے نمبر پر رہا۔'