آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا میں صحافی کے قتل کے خلاف اخبارات نے بطور احتجاج خالی جگہ چھوڑ دی
انڈیا کی شمال مشرقی ریاست تری پورا میں مبینہ طور ایک سینئیر فوجی اہلکار کے حکم پر صحافی کو قتل کرنے کے واقعےکے بعد متعدد علاقائی اخبارات نے بطور احتجاج اپنے ادارتی صفحات میں خالی جگہ چھوڑ دی۔
سینئیر فوجی اہلکار کمانڈٹ تپن دبرما نے مبینہ طور پر منگل کو اپنے باڈی گارڈ کو صحافی سدیپ دتہ کو گولی مارنے کا حکم دیا تھا جس کے الزام پر انھیں بدھ کی رات گرفتار کر لیا گیا۔
یہ واقعہ تپن دبرما کے دفتر کے باہر اس وقت پیش آیا جہاں سدیپ دتہ نے منگل کو ایک اجلاس میں شرکت کی تھی۔
صحافی سدیپ دتہ کے ادارے کے مدیر سبل کمار کا کہنا ہے کہ سدیپ دتہ کو ان کی رپورٹس کی وجہ سے مارا گیا۔
انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ سدیپ دتہ کا ’جرم صرف یہ تھا‘ کہ انھوں نے بد عنوانی اور مالی بے ضابطگیوں کے معاملات کو اٹھایا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تری پورا کے متعدد اخبارات نے سدیپ دتہ کے قتل کے خلاف جمعرات کو بطور احتجاج اپنے ادارتی صفحات کو خالی شائع کیا۔
ریاست کی سیاسی جماعتوں نے بھی سدیپ دتہ کی موت کے خلاف احتجاج کے لیے ایک روزہ شٹر ڈاؤن ہڑتال کی اپیل کی جس کے بعد ریاست کے سکولز، کالجز اور دیگر دفاتر بند رہے۔
صحافی سدیپ دتہ کو مبینہ طور پر گولی مارنے والے سپاہی کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔
انڈیا میں گذشتہ ماہ بائیں بازو کی ایک سرکردہ صحافی گوری لنکیش کو جنوبی ریاست کرناٹک کے شہر بنگلور میں نا معلوم جوہات کی بنا پر گولی مار کر ہلاک کر دیا گيا تھا۔
55 سالہ صحافی گوری لنکیش ہندو قوم پرست سیاست کی مخالف تھیں۔ گوری لنکیش ایک ہفت روزہ جریدے کی مدیر تھیں اور اُن کا شمار نڈر صحافیوں میں ہوتا تھا۔