پیسے لے کر معذور سے شادی کریں گے؟

    • مصنف, دویا آریہ
    • عہدہ, بی بی سی ہندی

'میرے گھر والے کسی سے بھی میری شادی کروانے کے لیے تیار تھے۔'

روپم کماری اپنے پیروں پر چل نہیں سکتیں۔ بچپن میں پولیو ہوا اور ٹانگیں کبھی سیدھی نہیں ہو پائیں۔ وہ اپنے ہاتھوں کے بل فرش پر رینگ کر چلتی ہیں۔

انڈیا کی ریاست بہار کے نالندا شہر میں مقیم ان کے خاندان والے پیسے دے کر کسی غریب خاندان میں ان کی شادی کروانے کو تیار تھے۔

مگر روپم یہ نہیں چاہتی تھیں۔ ان کے مطابق ایسا رشتہ برابری کا رشتہ نہیں ہو گا۔ انھوں نے کہا، 'اگر لڑکا ٹھیک ہے، لڑکی میں خرابی ہے، تو چار لوگوں کے بہکاوے میں آ کر لڑکی سے کچھ بھی کر سکتا ہے، مار سکتا ہے، ریپ کر کے چھوڑ سکتا ہے۔'

انھیں لگتا ہے کہ ایسا شخص اپنی معذور بیوی کو وہ درجہ نہیں دے گا، بس اس کا فائدہ اٹھانا چاہے گا۔

کئی سالوں کے انتطار کے بعد آخر اس سال مئی میں روپم کی شادی ہوئی، اور ایسا ایک سرکاری منصوبے کی وجہ سے ممکن ہوا۔

خاندان بھی راضی نہیں تھا

روپم کے شوہر بھی معذور ہیں۔ راجکمار سنگھ کو بھی چلنے میں مشکل ہوتی ہے اور وہ پیر موڑ کر چل پاتے ہیں۔

میں ان دونوں سے ان کے گھر میں ملی۔ نالندا کے شہر پورکھپور میں تھوڑا گھومی تو اندازہ ہو گیا کہ یہ شادی کتنی انوکھی ہے۔

غریب خاندانوں میں معذوروں کو اکثر بوجھ یا ذمہ داری کے چشمے سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کی پڑھائی لکھائی اور روزگار کو کچھ اہمیت دی جاتی ہے لیکن شادی کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی۔

راجکمار کے خاندان کی بھی ان کی شادی میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ بہت سمجھانے کے بعد وہ ان کی اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے راضی ہوئے۔

نظریہ بدلنے کی کوشش

راجکمار نے بتایا، 'ہم نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ جب آپ دونوں گزر جائیں گے تو مجھے کون دیکھے گا؟ بھائی بھابی کہاں خیال رکھتے ہیں۔ بیوی ہو گی تو روٹی تو بنا دے گی۔'

راجکمار اور روپم کی ضرورتیں اور امیدیں چاہے مختلف ہوں، کسی بھی عام انسان کی طرح چاہے جانے کی خواہش تو ضرور تھی۔

معذور افراد کی اس ضرورت کی اور معاشرے اور خاندان کے رویے بدلنے کے مقصد سے ہی کئی ریاستی حکومتوں نے 'اِنسینٹیو فار میرج' یعنی شادی کے لیے مراعات جیسے منصوبے متعارف کروائے ہیں۔

اس پروگرام کے تحت معذور افراد سے شادی کرنے پر انھیں روز مرہ کی ضروریات کے لیے کچھ پیسے ملتے ہیں۔

بہار میں پچھلے سال شروع کیے گئے اس منصوبے میں کسی معذور شخص سے شادی کرنے پر حکومت 50 ہزار روپے دیتی ہے۔

ایک نیا منصوبہ

اگر لڑکا اور لڑکی دونوں معذور ہوں تو رقم دگنی ہو جاتی ہے، یعنی ایک لاکھ روپے۔ شرط یہ ہے کہ یہ پیسے شادی کے تین سال پورے ہونے پر ہی دیے جائیں گے۔

مگر اس منصوبے کے بارے میں کم ہی لوگ جانتے ہیں اور اس بارے میں آگاہی بڑھانے کے لیے 'معذور ادھیکار منچ' اور اس جیسی معذوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظمیں سرگرم ہیں۔

منچ کے ساتھ کام کرنے والی ویشنوی سواولمبن نے بتایا کہ جب انھوں نے کام شروع کیا تو کئی لوگوں نے کہا کہ معذور لوگ خود اپنا خیال نہیں رکھ سکتے، ان کی شادی کروا کر کیا حاصل ہو گا۔

لیکن اس سب سے ویشنوی ڈگمگائی نہیں۔ وہ خود معذور ہیں۔ ان کے مطابق سرکاری منصوبہ بہت مددگار ہے اور وہ پچھلے دو برسوں میں دو اجتماعی شادیوں میں 16 معذور جوڑوں کی شادیاں کروا چکی ہیں۔

سرکاری جہیز!

وہ کہتی ہیں کہ سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ جو لوگ معذور نہیں ہیں انھیں ایک معذور شخص کے ساتھ شادی کرنے کے لیے راضی کیا جائے۔

سرکاری منصوبے کے باوجود اب بھی معذور افراد ہی ایک دوسرے سے شادی کرنے کے لیے سامنے آتے ہیں۔

اس منضوبے کا مقصد تو لوگوں کی مدد کرنا ہے تاہم اس پر تنقید بھی کی جا رہی ہے۔

کیا یہ حکومت کی طرف سے جہیز ہے؟ اور پیسے کے لالچ میں شادی کے بعد اگر کوئی بھاگ جائے تو؟

ویشنوی اسے جہیز نہیں مانتیں۔ ان کے مطابق، 'شادی کے پیسے سے ان کی ہمت بڑھ رہی ہے کہ اگر ان کے سرپرست انھیں چھوڑ بھی دیں تو دو تین سال میں اپنا بزنس کر لیں گے، ان کے اندر خود اعتمادی بڑھ رہی ہے۔'

پر پھر بھی رہ رہ کر دل میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر کسی رشتے کی بنیاد پیسے کی وعدے پر رکھی ہو تو وہ کتنی مضبوط ہو گی۔

راجکمار اور روپم کو اس منصوبے نے معاشی طور پر آزاد ہونے کا یقین تو دلایا ہے لیکن کیا واقعی یہ مدد ان دونوں کو ہنسی خوشی ایک ساتھ رکھ پائے گی؟