آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کابل: فضائی حملے میں عام شہری نشانہ بن گئے
افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کابل میں شدت پسندوں پر کیے گئے ایک فضائی حملے میں عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔
یہ فضائی حملہ افغان فوجیوں کی مدد کے دوران کیا گیا جو کابل کے ہوائی اڈے پر حملہ کرنے والے شدت پسندوں سے لڑ رہے تھے۔
حکام نے اب تک کم از کم ایک خاتون کے ہلاک جبکہ 11 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔
شدت پسندوں نے یہ حملہ امریکی وزیرِ دفاع جیم میٹس کے دورے کے موقعے پر کیا۔
اب تک واضح نہیں ہے کہ کتنے شہری اس فضائی حملے میں ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
امریکہ نے حال ہی میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ مزید 3000 فوجی افغانستان بھیجے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
افغانستان میں تعینات نیٹو مشن نے ایک بیان مںی وضاحت کی کہ ’افسوس ناک طور پر ایک میزائل میں ہونے والے خرابی کے باعث یہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔‘
بیان میں شہریوں کو پہنچنے والے نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ بارودی مواد میں ہونے والی خرابی کے بارے میں تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔
کابل کے ہوائی اڈے پر جنرل میٹس کے جہاز کو نشانہ بنا کر کیے جانے والے راکٹ حملے کح ذمہ داری طالبان اور ان کے حریف دولتِ اسلامیہ دونوں نہ ہی قبول کی ہے۔
جنرل میٹس نے اپنے دورے میں نیٹو کے سربراہ جینز سٹولن برگ اور افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات میں افغان فوج کو مضبوط بنانے کے حوالے سےبات چیت کی۔
جنرل میٹس کا کہنا تھا ’امریکی سربراہی میں نیٹو فوجیوں کے تعاون سے افغان فورسز کو میدان جنگ اور طالبان کے خلاف لڑائی میں مدد ملے گی۔
افغانستان میں طالبان کے خلاف امریکی جنگی کارروائیاں سنہ 2014 میں ختم ہو چکی ہیں تاہم اب بھی 8000 سے زائد امریکی فوجی ملک میں موجود ہیں اور افغان فوجیوں کی مدد کر ہے ہیں۔
افغانستان پر امریکی فوج کہ حملہ کے 16 سال بعد بھی افغان حکومت ملک کے محض 60 فیصد حصے پر اختیار حاصل کر پائی ہے۔