تصاویر میں: فرید کوٹ میں بابا فرید میلے کے مختلف رنگ

انڈیا کی ریاست پنجاب میں فرید کوٹ شہر فرید الدین مسعود گنجِ شکر کے نام سے موسوم ہے جنھیں جنوبی ایشیا میں بابا فرید یا شیخ فرید کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان کی پیدائش سنہ 1175 میں ہوئی جب کہ وصال 1266 میں ہوا۔

بابا فرید کا تعلق سلسلہ چشتیہ سے تھا اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جب انھوں نے موکلہار کا دورہ کیا تو اس کے بعد اس شہر کا نام ان کے نام پر رکھ دیا گیا۔ انھوں نے اس شہر کا دورہ تب کیا تھا جب یہاں ایک قلعے کی تعمیر ہو رہی تھی۔

اب یہاں بابا فرید کی آمد کی یاد میں ہر سال ستمبر کے تیسرے ہفتے میں ایک تہوار منایا جاتا ہے۔ اس مسجد پر لکھا ہے ٹلّہ بابا فرید جی۔

لوک کہانیوں میں بیان کیا گیا ہے کہ بابا فرید کو بادشاہ لیے کام کرنے والوں نے مزدوری کے لیے مجبور کیا۔ اس دوران ایک بار بادشاہ نے یہ معجزہ دیکھا کہ بابا فرید کے سر پر لدا ہوا سامان ان کے سر سے ایک ہاتھ اوپر تک کے فاصلے پر تھا۔ یہ دیکھ کر بادشاہ نے ان سے معافی مانگی اور اس شہر کا نام فرید کوٹ رکھ دیا گیا۔

بابا فرید کی شاعری کا کچھ حصہ گرو گرنتھ صاحب میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ سکھ مذہب کی مقدس کتاب ہے جسے سنہ 1604 میں گرو ارجن دیو نے مرتب کیا تھا۔

وہاں درگاہ پر ایک جنڈ کے درخت کی لکڑی کا ٹکڑا بھی موجود ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس لکڑی کے ٹکڑے کی خاص بات یہ ہے کہ اسے بابا فرید نے چھوا تھا۔ درختوں کی عبادت یا تعظیم بہت سے مذاہب کا حصہ ہے اس لیے اس درگاہ پر ایسا ہونا غیر معمولی نہیں ہے۔

درگاہ میں دیدہ زیب شیشہ کاری کا کام بھی کیا گیا ہے اور پھولوں اور جانوروں کی تصاویر بھی نظر آتی ہیں۔

یہ نوجوان درگاہ میں گربانی کا کچھ حصہ پڑھ رہا ہے۔

لوگ یہاں موجود تیل کے دیوں کو بجھنے نہیں دیتے یہ ان کی حاجات اور دعاؤں کی قبولیت کا حصہ ہے۔ ان دیوں میں جلتی آگ کی روشنی کو جگدیاں جوتاں کہتے ہیں۔

اس تہوار میں نوبیاہتا جوڑے بھی آتے ہیں۔ یہ کہا جاتا ہے کہ یہاں آنے سے دولہن دولہے کے خاندان میں ’ایڈجسٹ‘ ہو جاتی ہے۔

بابا فرید کی درگاہ میں موجود گرو گرنتھ صاحب کے سامنے بھی لوگ دعا کرتے ہیں۔

نذر نیاز کے بغیر ان مذہبی مقامات پر آنے والے واپس نہیں لوٹتے۔ اگر کوئی یہاں آنے کی سکت نہ بھی رکھتا ہو تو وہ کسی دوسرے کو ضرور کہتا ہے کہ وہ اس کے لیے نیاز لیتا آئے۔

یہاں آنے والوں میں مختلف مذاہب کے لوگ ہوتے ہیں اور یہ مختلف طرح سے عبادت کے طریقوں کی ادائیگی کا غیر معمولی مقام ہے۔

یہاں آنے والے لوگ دیگر امور بھی انجام دیتے ہیں۔ جیسے یہ ضیعف شخص ایک بچے کی نگرانی کر رہے ہیں جب کہ ان کا خاندان درگاہ کے اندر اپنے مذہبی فریضے سرانجام دینے میں مشغول ہے۔

یہاں آنے والوں کے لیے خوراک کا انتظام کیا جارہا ہے اور پنجاب میں اسے لنگر پرساد کہتے ہیں۔ یہ درگاہ کے باورچی خانے کا منظر ہے۔

اگر یہ لنگر عارضی بھی ہو تب بھی یہ کسی بھی مذہب اور طبقے سے بالاتر ہو کر فراہم کیا جاتا ہے یعنی اس لنگر کو کھانے والوں کے لیے کوئی تخصیص نہیں ہوتی۔

اس تہوار میں بڑوں کے علاوہ بچوں کے لیے بھی خصوصی انتظامات ہوتے ہیں۔ یہ جھولے بچوں کے لیے تفریح کا ایک ذریعہ ہیں جو تہوار کے ختم ہونے کے بعد بھی ان کی توجہ حاصل کیے رکھتے ہیں۔

سبھاش پریہار ایک ریٹائرڈ کالج پروفیسر ہیں جنھوں نے پنجاب کے ثقافت اور جغرافیے پر وسیع پیمانے پر کام کیا ہے۔ انھوں نے فرید میلے کو بھی ایک طویل عرصے تک ڈاکومینٹ کیا ہے۔ انھوں نے اپنے پاس محفوظ تصاویر کے ذخیرے میں سے چند نئی تصاویر بی بی سی کو بھی فراہم کی ہیں۔