آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان اور افغانستان کے اختلافات کم کرنے کی کوشش کریں گے: چین
چین کے وزیر خارجہ وانگ زی نے کہا ہے کہ ان کا ملک پاکستان اور افغانستان کے درمیان اختلافات کو کم کرنے کی بھرپور کوشش کرے گا۔
چینی وزیرِ خارجہ نے یہ بات اپنے پاکستانی ہم منصب خواجہ آصف اور پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی ناصر جنجوعہ سے بیجنگ میں ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں کہی۔
خیال رہے کہ پاکستان کے وزیر خارجہ چین کا دورہ ایک ایسے وقت پر کر رہے ہیں جب صدر ٹرمپ کے افغانستان کے بارے میں پالیسی بیان میں پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے معاملے پر سخت زبان میں تنبیہ کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں۔
حال ہی میں چین میں دنیا کی پانچ اہم ابھرتی ہوئی معیشتوں کی تنظیم برکس نے پہلی مرتبہ اپنے اعلامیے میں پاکستان میں پائی جانے والی شدت پسند تنظیموں لشکرِ طیبہ اور جیشِ محمد کا ذکر بھی کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان نے برکس کے مشترکہ اعلامیے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں کسی بھی دہشت گرد تنظیم کی محفوظ پناہ گاہ موجود نہیں ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق مشترکہ پریس کانفرنس میں چین کے وزیر خارجہ وانگ زی نے کہا کہ بدلتی علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال میں پاکستان اور چین ایک ساتھ کھڑے ہیں پاکستان اور چین دفاعی و علاقائی سلامتی کے لیے ایک دوسرے سے بھرپور تعاون کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ’افغانستان میں امن پاکستان، چین اور خطے کے مفاد میں ہے۔ چین پاکستان اور افغانستان کے ساتھ سٹریٹجک تعاون، سکیورٹی ڈائیلاگ کو آگے بڑھانا چاہتا ہیں۔’
چینی وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغانستان پر امریکی پالیسی کا ہم نے گہرا مطالعہ کیا ہے اور افغان قیادت پر مشتمل مصالحتی عمل ہی افغانستان میں امن کا ضامن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف اقدامات کو سراہتا ہے۔‘
پاکستان کے وزیرِ خارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ ’پاکستان چین کی ون چائنہ پالیسی کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور پاکستان برابری ،عدم مداخلت اور اقتصادی ترقی پر یقین رکھتا ہے۔
پاکستانی وزیر خارجہ نے مزید کہا چین کی جانب سے افغانستان مسئلے کے سیاسی حل کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
’پاکستان ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن اور برابری کی سطح پر تعلقات چاہتا ہے۔‘