آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
رخائن میں پرتشدد واقعات، ہزاروں روہنگیا مسلمانوں کی بنگلہ دیش میں پناہ
پناہ گزینوں کی عالمی ایجنسی آئی او ایم کا کہنا ہے کہ میانمار کے مسلم اکثریتی علاقے رخائن میں پرتشدد واقعات کے بعد ایک ہفتے سے بھی کم مدت میں 18 ہزار سے زیادہ روہنگیا مسلمان علاقے سے نقل مکانی کر کے بنگلہ دیش میں داخل ہوئے ہیں۔
میانمار میں حکام کے مطابق تشدد کا آغاز اس وقت ہوا جب روہنگیا شدت پسندوں نے جمعے کو 30 پولیس سٹیشنز پر حملہ کیا اور اس کے بعد شروع ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں فوج کو بلانا پڑا۔
امدادی کارکنوں کے مطابق نقل مکانی کرنے والے روہنگیا مسلمانوں کے لیے کیمپ قائم کیے گئے ہیں جہاں انھیں پناہ اور خوراک مہیا کی جا رہی ہے جبکہ کیمپ میں آنے والے تقریباً ایک درجن کے قریب پناہ گزین گولیوں کے نتیجے میں زخمی ہوئے ہیں۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت ہزاروں کے قریب روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش کی سرحد عبور کرنے کے منتظر ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ان جھڑپوں میں ایک سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں زیادہ تعداد شدت پسندوں کی بتائی جا رہی ہے۔
رخائن ریاست سے مصدقہ اطلاعات حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے کیونکہ صرف چند ایک صحافیوں کو علاقے میں جانے کی اجازت دی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پناہ گزینوں کی عالمی ایجنسی آئی او ایم کا کہنا ہے کہ جمعے سے بدھ تک 18 ہزار چار سو پینتالیس روہنگیا مسلمانوں کا کیمپ میں اندراج کیا گیا ہے۔
ایجنسی کے مطابق کیمپ میں آنے والوں میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔
آئی او ایم کے ترجمان پیپی صادق نے بی بی سی کو بتایا کہ' ابھی تک ہزاروں افراد سرحد پر موجود ہیں جن تک ہماری رسائی نہیں ہے۔ کیمپ میں نئے آنے والے پناہ گزینوں میں سے بعض کے پاس کپڑے تھے جبکہ بعض کے پاس کھانے پینے کے برتن بھی تھے تاہم بڑی تعداد اپنا سب کچھ پیچھے ہی چھوڑ آئی ہے اور انھیں فوری پناہ اور خوراک کی ضرورت ہے۔'
گذشتہ اکتوبر سے اب تک ایک لاکھ روہنگیا مسلمان نقل مکانی کر کے بنگلہ دیش میں پناہ لے چکے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق بنگلہ دیش میں بلاکھلی کے علاقے میں قائم عارضی کیمپ میں آنے والے روہنگیا اپنے ساتھ دل دہلا دینے والی کہانیاں لائے ہیں۔
70 سالہ محمد ظفر کے دو بیٹوں کو مسلح بودھوں نے ہلاک کیا۔ 'انھوں نے اتنے قریب سے فائرنگ کی کہ اب مجھے کچھ سنائی نہیں دیتا۔ وہ سلاخوں اور ڈنڈوں سے لیس تھے اور ہمیں سرحد کی جانب دھکیل رہے تھے۔'
ایک اور روہنگیا 61 برس کے عامر حسین نے بنگلہ دیش کے گاؤں گھمدھم کے قریب برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا 'ہمیں بچا لو۔ ورنہ ہمیں مار دیا جائے گا۔'
واضح رہے کہ ریاست رخائن میں تقریباً 10 لاکھ مسلمان آباد ہیں۔ بودھوں کی اکثریتی آبادی کے ساتھ کئی برسوں سے تناؤ جاری ہے جبکہ دسیوں ہزاروں روہنگیا بنگلہ دیش نقل مکانی کر چکے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بدھ کو اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان کی سربراہی میں ایک کمیشن نے حکومت سے روہنگیا مسلمانوں کو شہریت دینے کے لیے کوئی راستہ نکالنے کی درخواست کی تھی۔
کوفی عنان نے روہنگیا مسلمانوں کو 'دنیا کا سے بڑا بغیر ریاست کا گروہ' قرار دیا ہے۔