انڈیا میں چینی شہریوں کے لیے پھر ایک ایڈوائزری

    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

دلی میں واقع چین کے سفارتخانے نے سرحدی کشیدگی اور حالیہ ٹرین حادثات، سیلاب کی صورتحال اور وبائی امراض کے پیش نظر اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ انڈیا کے اندر سفر کے دوران خصوصی احتیاط سے کام لیں۔

دلی میں چینی سفارتخانے کی طرف سے جاری کی گئی ایک ’ایڈوائزری‘ یا ہدایت میں کہا گیا ہے کہ چینی شہری سفر کے دوران اپنی ذاتی سلامتی کا خیال رکھیں اور اردگرد اور مقامی حالات پر نظر رکھیں۔ چینی شہریوں کو یہ مشورہ بھی دیا گیا ہے کہ وہ ملک کے اندر غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔

چینی شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ سفر کرتے وقت اپنا شناختی کارڈ ضرور لے کر چلیں اور اپنے سفر کی تفصیلات کے بارے میں اپنے ساتھیوں، دوستوں اور فیملی کوآگاہ رکھیں۔ یہ ایڈوائزری اس سال کے آواخر تک لاگو رہے گی۔

یہ دوسرا موقع ہے جب چین نے اپنے شہریوں کے تحفط کے لیے دلی میں اس طرح کی ایڈوائڑوی جاری کی ہے۔ اس سے پہلے چین نے سات جولائی کو ایک ایڈوائزری جاری کی تھی جس کی مدت ایک مہینے کی تھی۔

چین اور انڈیا کے درمیان گذشتہ دومہینے سے ڈوکلام سرحدی خطے میں زبردست کشیدگی ہے۔ چین کئی باربھارت کو وارننگ دے چکا ہے کہ وہ اپنے فوجیوں کو ڈوکلام خطے سے واپس بلائے جہاں چین کے بقول یہ فوجی غیر قانونی طور پر داخل ہوئے ہیں اور چینی فوج کو ایک سڑک کی تعمیر سے روک دیا ہے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ یہ زمین بھوٹان کی ہے اور اس کی فوج بھوٹان کی درخواست پر اس علاقے میں داخل ہوئی ہے۔

دونوں ملکوں میں شدید کشیدگی کے درمیان چین کے ایک سینئر تجزیہ کار نے کہا ہے کہ جوابی کارروائی کے طور پر انڈیا میں علیحدگی پسندي کی تحریکوں کو ہوا دینا کارگر نہیں ہوگا۔

روزنامہ پیپلز ڈیلی کے سینئر ایڈیٹر ڈ ینگ گینگ نے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے پس منظر میں بعض چینی دانشوروں نے یہ رائے دی تھی کہ چونکہ انڈیا تبت کی آزادی کے لیے برسرپیکار عناصر کی مدد کرتا ہے اس لیے چین کو بھی انڈیا پر دباؤ بنانے کے لیے 'وہاں کے علیحدگی پسندوں کا کارڈ کھیلنا چاہیے۔'

ڈینگ نے لکھا ہے کہ یہ خیال اس تصور پر قائم ہے کہ انڈیا ایک کثیرالنسلی ملک ہے۔ اس کی ریاستوں کو روایتی خود مختاری حاصل ہے۔ اور یہ کہ وہ عناصر جو 1947 کی تقسیم کا سبب بنے وہ آسانی سے دوبارہ اٹھ سکتے ہیں۔ اس نقطہء نظر سے انڈیا پر دباؤ بنانے کے چین کو علیحدگی پسندوں کی حمایت شروع کرنی چاہیے۔

ڈینگ نے لکھا ہے کہ یہ تصور بہت ہی سطحی ہے اور یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ جدید ہندوستانی معاشرے کا اندورنی اتحاد کس طرح قائم کیا گیا ہے۔'

انہوں نے مزید لکھا ہے کہ انڈیا کا قومی ڈھانچہ بالکل الگ نوعیت کا ہے۔ لیکن بنیادی طور پر سبھی ریاستیں کلچرل ہندوازم کے ایک بڑے دائرے کی کڑی ہیں۔ ملک میں قوم پرستی کی جو لہر ہے اس کی بنیاد مذہب ہے۔ سیاست اور مذہب کی آمیزش سے کئی عشروں تک انڈیا مشکلوں میں گھرا رہا لیکن اس کے باوجود وہ متحد ہے۔

ڈینگ نے لکھا ہے کہ 'اس لیے انڈیا میں علیحدگی پسندی کو ہوا دینے اور اسے منقسم کرنے کی پالیسی کارگر ثابت نہیں ہوگی۔ اس طرح کی کسی کوشش سے انڈیا میں ہندو قوم پرستی کی لہر مزید مستحکم ہوگی۔'