انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے خصوصی درجے پر خطرے کے بادل

انڈین سپریم کورٹ میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں جائیداد سے متعلق خصوصی قانون کے حوالے سے ایک درخواست پر سماعت چل رہی ہے۔

یہ قانون 35 اے کے نام سے مشہور ہے۔ اس کے تحت انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں رہنے والے باشندے ہی جائیداد کی ملکیت کا حق رکھتے ہیں اور وہی وہاں کی زمین کی خرید و فروخت کر سکتے ہیں۔

یہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی اسمبلی کو ریاست کے مستقل شہریوں کی تعریف متعین کرنے کا حق دینے والا قانون ہے۔ اس قانون کا نفاذ وادی کشمیر کے ساتھ ساتھ جموں اور لداخ کے خطوں پر بھی ہوتا ہے۔

اس کے تحت ریاست کے سبھی مستقل شہریوں کو ایک مستقل شہری سرٹیفکیٹ دیا جاتا ہے جو انھیں کام کرنے اور سکالر شپ جیسی خاص سہولیات حاصل کرنے میں معاون ہوتا ہے۔

لیکن اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس قانون کے تحت مستقل شہریوں کے پاس جائیداد خریدنے اور زمین کا مالکانہ حق رکھنے کا اختیار ہوتا ہے۔

یہ قانون کشمیر میں 14 مئی سنہ 1954 کو منظور ہوا تھا۔ اس کے تحت قانون بننے کے وقت اور کشمیر میں کسی بھی وقت سے دس برس تک رہنے والوں کو مستقل شہری کہا جاتا ہے۔

ریاست کی اسمبلی دو تہائی اکثریت کے ساتھ کشمیر کے مستقل شہری کی اس تعریف کو تبدیل بھی کر سکتی ہے۔

کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے سنہ 1927 میں پہلی بار اس قانون کو منظور کیا تھا تاکہ شمالی پنجاب سے لوگوں کی آمد کا سلسلہ رک سکے۔

کشمیر کے بعض طاقتور ہندو خاندانوں نے ہی راجہ ہری سنگھ سے یہ قدم اٹھانے کی اپیل کی تھی۔ پاکستانی کے زیر انتظام کشمیر کے کچھ حصوں میں یہ قانون اب بھی نافذ ہے۔

انڈیا میں اس قانون کو موجودہ شکل میں سنہ 1954 میں تسلیم کیا گيا۔ یہ آئین کی دفعہ 370 کا ایک حصہ ہے جو کشمیر کو ایک خصوصی ریاست کا درجہ دیتا ہے۔

آئین کا یہ جز ریاست کو ایک علحیدہ آئین، مختلف پرچم اور دیگر تمام معاملات میں آزاد رہنے کا حق دیتا ہے۔ لیکن خارجی امور، دفاع اور مواصلات کے معاملے انڈین حکومت کے پاس ہیں۔

جب سنہ 1956 میں جموں کشمیر کے آئین کو تسلیم کیا گیا تو اس کے ساتھ ہی دو برس پرانے مستقل شہریت والے قانون کو بھی تسلیم کر لیا گيا۔ یہ قانون کشمیر کی مخصوص علاقائی شناخت کی حفاظت کرتا ہے۔

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر اس کی واحد مسلم اکثریتی ریاست ہے۔ اس صورت حال میں کشمیریوں کو اس بات کا خدشہ ہے کہ ہندو قوم پرست گروپ ہندوں کو کشمیر میں آنے کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔

کشمیریوں کے انڈيا کے ساتھ تعلقات تلخ رہے ہیں اور اسی وجہ سے کشمیریوں کو یہ بات ہضم نہیں ہو رہی۔ وہ چاہتے ہیں کہ اس قانون میں کوئی چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے، کیونکہ کشمیر میں سنہ 1989 سے انڈيا کے خلاف مسلح جد و جہد جاری ہے۔

انڈيا کشمیر میں عدم استحکام کے لیے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ لیکن پاکستان ایسے الزامات کو سختی سے مسترد کرتا رہا ہے۔ دونوں ہی ملک پورے کشمیر پر دعویٰ کرتے ہیں لیکن دونوں ملکوں کے پاس کشمیر کے مختلف حصوں کا کنٹرول ہے۔

انڈيا کی سپریم کورٹ میں اس خصوصی قانون کے معاملے پر سماعت چل رہی ہے۔ 'وی دی سٹیزن' نام کی ایک تنظیم نے سنہ 2014 میں اس قانون کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسے منسوخ کرنے کی درخواست کی تھی۔

کشمیر کی ریاستی حکومت نے عدالت میں اس قانون کا دفاع کیا ہے۔ لیکن ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت نے عدالت میں اس معاملے پر تفصیلی بحث کا مطالبہ کیا ہے۔

سنہ 2014 میں مرکز میں حکومت بنانے سے پہلے بی جے پی کشمیر کے خصوصی درجے کو ہٹانے کے حق میں بیان دیتی رہی ہے۔ لیکن اب وبی جے پی جموں و کشمیر میں پی ڈی پی کے ساتھ مخلوط حکومت چلا رہی ہے اور پی ڈی پی کے قانون میں تبدیلی کے لے تیار ہونے کا امکان نہیں ہے۔

آئین کے ماہر اے جی نورانی کہتے ہیں: 'انڈین پارلیمنٹ کشمیریوں کے لیے قانون نہیں بنا سکتی۔ اس کا حق صرف ریاستی حکومت کے پاس ہے۔'

قانون کا دفاع کرنے والے فریقوں کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو حکومت ہند کشمیر کے خصوصی درجے کی حفاظت کے اپنے وعدے سے منحرف ہو جائے گی۔

اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ یہ خصوصی قانون منسوخ ہونے کے بعد جموں و کشمیر میں باہر کے لوگوں کا آنا شروع ہو جائے گا جس سے ریاست کی علاقائی شناخت بدل کر رہ جائے گي۔

سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کی منسوخی جموں اور لداخ کے لیے سنگین نتائج لے کر آئے گی۔

وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے انڈیا اور کشمیر کا جو نازک رشتہ ہے وہ ٹوٹ جائے گا۔