آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دو ہفتوں میں بھارت کے خلاف چین کی جنگی کاروائی: چینی اخبار
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
چین کے سرکاری اخبار ’گلوبل ٹائمز‘ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا ہے کہ چین ڈوکلام کے متنازع علاقے سے انڈین فوجیوں کو باہر نکالنے کے لیے آئندہ دو ہفتے کے اندر انڈیا کے خلاف ’محدود نوعیت کی جنگ‘ کی تیاری کر رہا ہے۔
چین اور انڈیا کے درمیان گذشتہ جون سے اس وقت سے کشید گی پیدا ہوئی جب انڈیا کی فوج بھوٹان اور چین کے درمیان واقع متنازع علاقے ڈوکلام میں داخل ہوگئی اور اسں نے چینی فوجیوں کو وہاں ایک سڑک تعمیر کرنے سے روک دیا۔
بھوٹان کا دعویٰ ہے کہ یہ زمین اس کی ملیکت ہے جب کہ چین کا کہنا ہے کہ یہ زمین اس کی ہے ۔ انڈین فوجی بھوٹان کی درخواست پر ڈوکلام میں داخل ہوئے۔ اس وقت سے دونو ں ملکوں کی افواج کے درمیان تعطل برقرار ہے۔
گلوبل ٹائمز نے اس مضمون میں شنگھائی اکیڈمی آف سوشل سائسنسز کے محقق ہو زی یونگ کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’چین ڈوکلام میں انڈیا اور چین کے درمیان موجودہ فوجی تعطل کو بہت دنوں تک جاری نہیں رہنے دے گا ۔ انڈین فوجیوں کو ڈوکلام سے باہر نکالنے کے لیے دو ہفتے اندر محدود نوعیت کی فوجی کاروائی شروع ہو سکتی ہے۔‘
ہوزی یانگ نے مزید کہا ہے کہ انڈیا کے خلاف فوجی کاروائی شروع کرنے سے پہلے چینی حکومت انڈیا کی وزارت خارجہ کو مطلع کرے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بیجنگ سے شائع ہونے والے سرکاری اخبار میں یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب انڈیا کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے جمعے کو پارلیمان میں کہا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان ٹکراؤ سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا اور ہر مسئلے کو بات چیت کے ذریعے ہی حل کیا سکتا ہے ۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ چین انڈیا کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
گلوبل ٹائمز نے سنیچر کے اپنے اداربے میں انتہائی سخت لب و لہجہ اختیار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انڈیا نے ایک ایسے ملک کو چیلنج کیا ہے جو اس کے مقابلے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔ ’شاید جنوبی ایشیا میں وہ اپنی علاقائی اجارہ داری اور مغربی میڈیا کے تبصروں سے وہ اس حد تک اندھا ہو گیا ہے کہ اسے یہ یقین ہونے لگا کہ وہ چین جیسے طاقتور ملک کے ساتھ اسی طرح پیش آ سکتا ہے جیسے وہ جنوبی ایشیا کے ملکوں کے ساتھ پیش آتا ہے ۔‘
اخبار نے لکھا ہے کہ گذشتہ ایک مہینے سے پیپلز لبریشن آرمی حرکت میں ہے۔ ’ہمیں امید ہے کہ چینی فوج نے فوجی ٹکراؤ کے لیے اپنی تیاری مکمل کر لی ہے ۔‘
اخبار نے لکھا ہے کہ نریندر مودی کی حکومت بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کررہی ہے اور انڈیا کے قومی وقار اور پرامن ترقی کے عمل کو خطرے میں ڈال رہی ہے ۔ مودی کو چینی فوج کی عظیم طاقت اور اس کے ساز وسامان کے بارے میں پتہ ہونا چاہیے۔ انڈین فوج کا چینی فوج سے کوئی موازنہ ہی نہیں ہے۔ ’چینی فوج سرحدی خطے میں تمام بھارتی فوجیوں کو تباہ کرنے کی قطعی اہلیت رکھتی ہے ۔‘
اخبار نے مزید لکھا ہے کہ مودی حکومت کا قدم علاقائی سلامتی اور امن کے لیے خطرہ ہے ۔ یہ انڈیا کی تقدیر اور ملک کے عوام کی فلاح کے ساتھ جوا ہے ۔ ’اگر مودی حکومت اپنی ضد پر ڈٹی رہی تو یہ ملک کو ایک ایسی جنگ میں دھکیل دے گی جسے روکنا انڈیا کے کنٹرول میں نہیں ہو گا۔‘
گلوبل ٹائمز کے اداریے میں لکھا ہے کہ چین سرحد پر برسوں کے امن کا احترام کرتا ہے اور وہ یہ نہیں چاہتا یہ امن تباہ ہو۔ اخبار کے مطابق چینی فوج نے ابھی تک فوجی کاروائی اس لیے نہیں کی کہ امن کو ایک اور موقع دیا جائے اور بھارت جنگی کاروائی کے مضمرات کو سمجھ سکے۔