آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مہندرا اینڈ محمد کو تقسیم نے کیسے الگ کیا؟
یہ تحریر پہلی مرتبہ بی بی سی اردو کی ویب سائٹ پر پانچ اگست 2017 کو شائع کی گئی تھی۔ قارئین کی دلچسپی کے باعث اسے دوبارہ پیش کیا جا رہا ہے۔
برصغیر کی تقسیم سے قبل دنیا میں گاڑیاں بنانے والی بڑی کمپنیوں میں سے ایک مہندرا اینڈ مہندرا کبھی مہندرا اینڈ محمد ہوا کرتی تھی لیکن اب ایسا نہیں ہے۔
سنہ 1945 میں جے سی مہندرا، کے سی مہندرا اور ملک غلام محمد نے مہندرا اینڈ محمد کا آغاز پنجاب میں ایک سٹیل ٹریڈنگ کمپنی کے طور پر کیا تھا۔
مہندرا اینڈ مہندرا کے اعزازی چیئرمین کیشو مہندرا اس بارے میں بتاتے ہیں کہ جب انھوں نے کمپنی شروع تو غلام محمد سے کہا گیا کہ وہ آئیں اور بطور اقلیتی شراکت دار کمپنی میں شامل ہو جائیں۔
ان کے مطابق اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ ہندو مسلم اتحاد کے نظریے کے قائل تھے۔ ان کے بقول مسلمانوں کے لیے آزاد ملک کا مطالبہ تو زور پکڑتا رہا مگر یہ دوستی قائم رہی۔
کیشو مہندرا کہتے ہیں کہ وہ ہندو مسلم اتحاد کے نظریےکے قائل تھے اور سمجھتے تھے کہ ’انڈیا کو ایک سکیولر ریاست کے طور پر قائم رہنا چاہیے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم بعد میں اگست 1947 میں برصغیر دو نئے ممالک میں تقسیم ہو گیا، یعنی پاکستان اور انڈیا۔
پاکستان بننے کے بعد غلام محمد کو پاکستان کا پہلا وزیرِ خزانہ بننے کی پیشکش کی گئی تھی۔
غلام محمد کو ہونے والی پیش کش کے بارے میں کیشو مہندرا جذباتی ہوتے ہوئے کہا کہ ’کچھ احساس ناراضی تھا اور کچھ ایک حد تک زیاں کا کہ غلام محمد نے انھیں یہ نہیں بتایا کہ وہ ایسا کچھ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔‘
پھر ایسا ہوا کہ سنہ 1951 میں غلام محمد کو پاکستان کا گورنر جنرل مقرر کر دیا گیا۔
’جب وہ گورنر جنرل بنے تو دہلی آئے۔ پہلی شخصیت جس سے انھوں نے رابطہ کیا وہ میری دادی تھیں۔ تو رشتہ برقرار رہا اور پھر یہ تعلق آنے والی نسلوں تک باقی رہا۔‘
واضح رہے کہ مہندرا اینڈ مہندرا آج 15 ارب ڈالر مالیت کی کمپنی ہے اور یہ دنیا میں ٹریکٹر بنانے والا سب سے بڑا ادارہ ہے۔
پاکستان اور انڈیا کے درمیان موجودہ حالات کے بارے میں کیشو مہندرا کا کہنا ہے کہ ’آج کل پاکستان اور انڈیا کے درمیان جو کچھ ہو رہا ہے، اس تناظر میں دیکھا جائے تو لوگوں میں تعلق ہے لیکن کیا کریں کہ سیاسی منظر نامے پر اس کا اثر دکھائی نہیں دیتا۔ امید ہے کہ ایک دن یہ چیز تبدیل ہوگی۔‘