افغانستان: شیعہ فرقے کی مسجد پر حملے میں کم از کم 30 افراد ہلاک

افغانستان کے شہر ہیرات میں شیعہ فرقے کی مسجد پر ہونے والے حملے میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔

جوادیہ مسجد میں یہ حملہ مقامی وقت کے مطابق شام آٹھ بجے ہوا۔

ایک ڈاکٹر نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ ان کے ہسپتال میں 20 لاشیس لائی گئی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ایک حملہ آور نے خودکش حملہ کیا جبکہ دوسرا مسلح تھا۔ مقامی پولیس نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ دونوں حملہ آور ہلاک ہو چکے ہیں۔

مقامی پولیس نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ حملے کے دوران گرنیڈ پھینکے گئے۔

مقامی گورنر کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ خودکش بمبار نے خود کو اڑانے سے پہلے مسجد کے اندر فائرنگ کی تھی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ تقریباً 30 افراد زخمی ہوئے ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ہے۔

ہیرات کے اس شیعہ آبادی والے علاقے میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری ابھی تک کسی نے قبول نہیں کی ہے۔

ایران کی سرحد کے قریب واقع اس علاقے کا شمار افغانستان کے قدرے پر امن شہروں میں ہوتا ہے۔

یہ حملہ کابل میں عراقی سفارت خانے پر ہونے والے حملے کے ایک دن بعد ہوا ہے۔ اس حملے میں بھی شدت ہسندوں نے پہلے خود کش حملہ کیا تھا اور اس کے بعد مسلح افراد نے فائرنگ کی تھی۔ خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

افغانستان کے شیعہ آبادی والے علاقوں میں گذشتہ ایک سال کے دوران ہونے والے حملوں کی ذمہ داری دولت اسلامیہ اور طالبان قبول کرتے رہے ہیں۔