چین کی کشمیر میں بڑھتی ہوئی دلچسپی

    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

انڈیا اور چین کے درمیان کشدیگی کے ماحول میں چین نے کہا ہے کہ وہ بھارت اور پاکستان کے تعلقات بہتر کرنے کے لیے 'اپنا تعمیری کردار' ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

چین کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ کشمیر کی صورت حال اتنی کشیدہ ہے کہ اب بین الاقوامی برادری کی توجہ اس کی طرف مبذول ہونے لگی ہے۔

چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان گنگ شوانگ نے بیجنگ میں ایک نیوز کانفرنس میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشمیر کے سوال پر بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ 'کنٹرول لائن پر دونوں ملکوں کے درمیان جس طرح کا ٹکراؤ ہو رہا ہے اس نے صرف دونوں ملکوں کا امن و استحکام خطرے میں پڑے گا، بلکہ یہ کشیدگی پورے خطے پر اثر انداز ہوگی۔'

شوانگ نے کہا کہ بھارت اور پاکستان جنوبی ایشیا کے اہم ممالک ہیں لیکن کشمیر کے کشیدہ حالات کے سبب اب اس تنازع کی طرف سبھی کی توجہ مبذول ہورہی ہے۔

چینی وزارت خارجہ کی ترجمان نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک ایسے اقدامات کریں گے جن سے کشیدگی کم کرنے اور خطے میں امن و استحکام کے قیام میں مدد ملے گی۔

ترجمان نے کہا: 'چین انڈیا اور پاکستان کے درمیان تعلقات بہتر بنانے میں اپنا تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔'

چین کی طرف سے انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کا بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب انڈیا اور چین کے فوجی سکّم کی سرحد کے نزیدک ڈوکلام خطے میں ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہیں۔

دو روز قبل چین کے سرکاری اخبار 'گلوبل ٹائمز' میں ایک کالم نگار نے لکھا تھا کہ جس طرح بھارت کے فوجی ڈوکلام کے متنازع علاقے میں بھوٹان کی درخواست پر داخل ہوئے ہیں اسی دلیل کی بنیاد پر تیسرے ملک کی فوج پاکستان کی درخواست پر کشمیر میں داخل ہوسکتی ہے۔

تیسرے ملک سے ان کی مراد چین سے تھی۔

انڈیا کی طرف سے چین کے اس بیان پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا گيا ہے اور میڈیا بھی اس معاملے میں پوری طرح سے خاموش ہے۔

چین اور انڈیا کے درمیان گذشتہ مہینے سے اس وقت سے زبردست کشیدگی کا ماحول جب بھارتی فوجی سکّم کے نزدیک بھوٹان کے ڈوکلام علاقے میں داخل ہوگئے اور وہاں چینی فوجیوں کو سڑک تعمیر کرنے سے روک دیا۔

چین کا کہنا ہے کہ یہ زمین اس کی ہے۔ اس ٹکراؤ کے بعد دونوں ملکوں کے فوجی آمنے سامنے ہیں اور تعطل برقرار ہے۔