آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کشمیر: فوجی جیپ پر باندھنے کے معاملے میں 10 لاکھ کا معاوضہ دینے کی ہدایت
- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں انسانی حقوق کے ریاستی کمیشن نے حکومت سے سفارش کی ہے کہ وہ فاروق ڈار نامی اُس شالباف کو 10 لاکھ روپے کا معاوضہ ادا کرے جسے فوجی میجر لیتول گگوئی نے جیپ کے آگے باندھ کر کئی گھنٹوں تک گھمایا تھا۔
اس واقعے پر وادی کے ساتھ ساتھ انڈیا کے کئی حلقوں نے بھی ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔
فاروق ڈار کو 9 اپریل کی صبح اُس وقت میجر گگوئی نے جیپ کے آگے باندھا جب پارلیمنٹ کی ایک سیٹ کے لیے ضمنی انتخابات ہورہے تھے اور کشمیری لوگ الیکشن کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔
انسانی حقوق کے لیے سرگرم محمد احسن اونتو نے کمیشن میں درخواست داخل کی تھی۔ کمیشن کے ایک بیان کے مطابق اس کیس پر پیر کو سماعت کے دروان کمیشن کے چیئرمین جسٹس بلال نازکی نے حکومت کو ہدایت دی کہ ڈیڑھ ماہ کے اندر اندر فاروق ڈار کو معاوضے کی رقم ادا کی جائے اور چیف سیکریڑی کو ہدایت دی ہے کہ وہ اسی مدت کے دوران ہدایت پر عمل کی رپورٹ کمیشن کو پیش کریں۔
انسانی حقوق کے کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا ہے 'بین الاقوامی قوانین کے ساتھ ساتھ اس ملک میں بھی ایسے قوانین ہیں جن کے تحت کسی سزا یافتہ مجرم کے ساتھ بھی اس طرح کا برتاؤ ممنوع ہے۔ کسی مہذب معاشرے میں انسانوں کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ قابل قبول نہیں ہو سکتا۔'
انھوں نے مزید کہا کہ فرد کی آزادی اور زندگی کے تحفظ کی ذمہ داری ریاستی حکومت کی ہے اس لیے مناسب یہ ہے کہ حکومت متاثرہ شخص کو معاوضہ ادا کرے۔
فاروق ڈار ایک غریب شالباف ہیں جو ضلع بڈگام کے ژھل براس میں رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 'اگر واقعی اس پر عمل ہوگا تو یہ بہت اچھا فیصلہ ہے۔'
واضح رہے کہ کشمیر کا سٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن بیس سال قبل قائم کیا گیا تھا تاہم اس کے پاس بہت محدود اختیارات ہیں اور اس کا کردار محض سفارشی ہے۔ حکومت کو اختیار ہے کہ وہ کمیشن کی سفارش پر عمل کرے یا کوئی جواز پیش کرکے سفارش کو مسترد کر دے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فوجی جیپ کے ساتھ باندھ کر کسی کشمیری کو انسانی ڈھال بنانے کا یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا۔ سوشل میڈیا پر اس کے خلاف زبردست ردعمل ظاہر ہوا جس کے بعد فوج نے واقعے کی تحقیقات شروع کردیں۔
لیکن تحقیقات مکمل ہونے سے قبل ہی انڈیا کے فوجی سربراہ جنرل بپن راوت نے میجر گگوئی کو اعزاز سے نوازا اور ان کی اس اقدام کو دانشمندانہ قدم قرار دیا۔