آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سعودی عرب نے پاسداران انقلاب کے اہلکار نہیں ماہی گیر پکڑے ہیں: ایران
ایران نے سعودی عرب کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے ایران کے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے تین اہلکاروں کو دھماکہ خیز مواد کے ساتھ گرفتار کیا ہے۔
ایران کی وزارت داخلہ میں سرحدی امور کے سربراہ ماجد آغابابی نے کہا کہ ایران کے جن تین افراد کو حراست میں لیا گيا ہے وہ جنوبی بندرگاہ بوشہر کے ماہی گیر ہیں۔
انھوں نے کہا: 'ان تینوں افراد کی شناخت کرلی گئی ہے۔ ان کا تعلق بوشہر سے ہے اور سعودی کوسٹ گارڈ نے انھیں جب حراست میں لیا وہ مچھلی پکڑ رہے تھے۔'
النا نیوز ایجنسی کے مطابق انھوں نے کہا کہ 'ان کے فوجی ہونے کے کوئی شواہد نہیں ہیں۔'
سعودی عرب نے پیر کو کہا تھا اس نے تین مشتبہ افراد کو پکڑا ہے جو پاسدارن انقلاب کے رکن ہیں اور وہ ایک کشتی پر سوار خلیج میں تیل کے پلیٹ فارم کی جانب جا رہے تھے۔
خیال رہے کہ یہ خلیج ان دونوں ممالک کو ایک دوسرے سے علیحدہ کرتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایران کے ساتھ کشیدگی میں حالیہ اضافے کے دوران سعودی عرب کی اطلاعات اور ثقافت کی وزارت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سعودی حکام ان سے پوچھ گچھ کررہے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سعودی وزارت نے کہا کہ 'یہ واضح ہے کہ ان کا ارادہ سعودی پانیوں میں دہشت گردی کارروائی کرنا تھا اور اس کا مقصد شدید جانی و مالی نقصان پہنچانا تھا۔'
سنیچر کو ایران نے سعودی ساحلی محافظوں پر ایک ماہی گیر کے قتل کا الزام لگایا تھا جن کی کشتیاں بھٹک کر سعودی عرب کے پانیوں میں چلی گئی تھیں۔
آغابابی نے پیر کو کہا تھا کہ کشتیوں کے سعودی عرب کی پانیوں میں داخل ہونے کے شواہد نہیں ہیں۔
لیکن جس دن (سنیچر کو) یہ واقعہ رونما ہوا تھا دو میں سے ایک کشتی میں تکنیکی خرابی آ گئی تھی اور سعودی فورسز نے ان پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک ماہی گیر ہلاک ہو گیا۔
پیر کو سعودی عرب نے کہا کہ انھوں نے جو کشتی پکڑی ہے اس میں سے انھوں نے اسلحے ضبط کیے ہیں۔
سعودی عرب کے مطابق یہ واقعہ جمعے کی شب کو پیش آیا تھا۔ ایک کشتی پکڑی گئی جبکہ دو فرار ہونے میں کامیاب ہو گئیں۔