آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا: لڑکیوں کی روحانی تربیت کا قدیم مرکز
انڈیا کے مقدس شہر واراناسی میں لڑکیوں کے لیے بنایا گیا ایک روایتی بورڈنگ سکول اپنی انوکھی تاریخ کے وجہ سے مشہور ہے۔
ماں آنندمائی کنیاپیتھ لڑکیوں کے لیے ایک مخصوص ادارہ ہے جہاں انڈیا بھر سے کمسن لڑکیاں پڑھائی اور روحانی تربیت کے لیے آتی ہیں۔
یہ سکول گروکُل کی طرز پر قائم ہے جہاں طلبہ کی رہائش ان کے اساتذہ کے قریب ہوتی ہے۔
فوٹوگرافر پرومیتا چیٹرجی نے اس سکول کا دورہ کیا اور اس آشرم کی تصویر کشی کی۔
69 سال سے قائم یہ سکول واراناسی میں قائم ہے جسے ہندومت کی جنم بھومی تصور کیا جاتا ہے۔ ہر سال ہزاروں زائرین اس شہر کا رخ کرتے ہیں تاکہ وہ مقدس دریا گنگا میں ڈبکی لگا سکیں۔
یہ سکول روحانی رہنما ماں آنندمائی نے قائم کیا تھا جو کہ بنگلہ دیش میں پیدا ہوئی تھیں اور انھوں نے انڈیا بھر کا روحانی سفر کیا تھا۔
اس سکول میں ایک عام دن صبح چار بجے شروع ہوتا ہے اور دن بھر بچیوں کو دین اور دنیا دونوں کی تعلیم دی جاتی ہے۔
بچیوں کو اس سکول میں داخلہ پانچ برس کی عمر سے دیا جاتا ہے اور وہ بالغ ہونے تک آشرم میں رہتی ہیں۔ صبح دس بجے سے لے کر شام چار بجے تک ان کو تعلیم دی جاتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سکول میں طالبات کو ہندومت کی مقدس کتاب جیسے ویداس کے اسباق دن میں دو بار پڑھائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ انھیں سنسکرت زبان کی گرامر، انگریزی، ہندی، ریاضی، تاریخ، جغرافیہ، معاشیات اور عمرانیات کی بھی تعلیم دی جاتی ہے۔
اس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لڑکیاں دن کی پہلی کلاس سے پہلے اپنی میزوں کو ٹھیک کر رہی ہیں۔
دن میں ان طالبات کو دو گھنٹے کھیلنے کے لیے بھی ملتے ہیں۔
سکول کی ویب سائٹ کے مطابق ان کے ہاں 'موسیقی سکھانے، گھریلو کام کاج، سلائی، کڑھائی، کھانا پکانا اور دیگر امور خانہ داری سکھانے کی سہولیات بھی ہیں۔'
سکول میں پڑھنے والی طالبات ہاسٹل میں رہتی ہیں۔
سکول میں یونیفارم کی بہت سختی ہے اور جیسے جیسے طالبات کی عمریں بڑھتی جاتی ہیں وہ سکول یونیفارم کی جگہ سفید ساڑھی لینا شروع کر دیتی ہیں۔ سکول میں طالبات کے لیے چھوٹے تراشے ہوئے بال رکھنا ضروری ہے۔
سکول کے اساتذہ کے مطابق جب یہ طالبات سکول سے فارغ ہو جاتی ہیں تو ان کو باہر کی دنیا میں جا کر کوئی بھی پیشہ اختیار کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔
لیکن ضروری نہیں کہ ہر کوئی اپنا یہ گھر چھوڑ کے چلا جائے کیونکہ کچھ خواتین تعلیم کے بعد اسی آشرم میں زندگی گزارنا پسند کرتی ہیں۔
تصاویر: پرومیتا چیٹرجی