آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
'عشق لیلائے سول سروس نے مجھ مجنوں کو'
- مصنف, مرزا اے بی بیگ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
عشق لیلائے سول سروس نے مجھ مجنوں کو --- اتنا دوڑایا لنگوٹی کر دیا پتلون کو
اردو کے معروف شاعر سید اکبر حسین اکبر الہ آبادی نے آزادی ہند سے پہلے سول سروسز سے متعلق یہ شعر کہے تھے جس سے واضح ہے کہ یہ انڈیا کی سب سے زیادہ چاہت والی نوکری رہی ہے اور جس کا حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف رہا ہے۔
رواں سال انڈیا میں مسلمانوں نے سول سروسز میں منتخب ہونے کے معاملے میں ایک ریکارڈ قائم کیا ہے۔ یعنی آزادی کے بعد اس امتحانات میں اتنی بڑی تعداد میں وہ پہلے کبھی نہیں آئے۔
بی بی سی کے ساتھ فیس بک لائیو میں انھوں نے اس کا سبب مسلمانوں میں آنے والی تعلیمی بیداری بتایا۔
جبکہ جامیہ ملیہ اسلامیہ میں اقلیت، دلت اور خواتین کے لیے اقامتی کوچنگ اکیڈمی کے کوارڈینیٹر طارق خان نے بتایا کہ مسلمانوں کے پاس اب مقابلہ میں اترنے کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ نہیں رہ گیا ہے۔
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ کل 1099 کامیاب امیدواروں میں سے 29 کا تعلق ان کی کوچنگ سے ہے۔
خیال رہے کہ سنہ 2006 میں حکومت کی قائم کردہ سچرکمیٹی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ مسلمان تعلیمی پسماندگی کا شکار ہیں اور سول سروسز میں ان کی نمائندگی انتہائی کم ہے۔ جبکہ مسلمانوں کا الزام رہا ہے کہ انھیں تعصب کا سامنا رہا ہے۔
رینا جمیل رواں سال کامیاب ہونے والے 51 امیدواروں میں سے ایک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلمانوں میں اب بیداری آ رہی ہے جس کے نتیجے میں ان کی نمائندگی میں پہلے کے مقابلے بہتری آئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ 'اگر بہتر مواقع فراہم ہوتے رہے تو وہ دن دور نہیں جب ان اعلیٰ ترین سروسز میں مسلمانوں کی دس فیصد نمائندگی ہو جائے گی۔'
انڈیا میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب تقریباً 14 فیصد ہے لیکن سرکاری نوکریوں میں ان کی نمائندگی نصف سے بھی کم ہے۔
بی بی سی فیس بک میں شامل ہونے والے کشمیری طالب علم نے بتایا کہ سہیل قاسم میر نے بتایا کہ اس بار کشمیر وادی سے تقریباً دس بچوں نے ان امتحانات میں کامیابی حاصل کی ہے اور پہلے دس میں بھی ایک کشمیری بلال محی الدین بٹ شامل ہیں۔
کشمیر کی ہی انابت خالق نے بتایا کہ 'وادی میں شورش کے باوجود تعلیم کا ماحول ہے اور وہاں کے لوگوں کو مواقع فراہم ہوں تو وہاں کی لڑکیاں بطور خاص اپنے صلاحیت کا لوہا منوا سکتی ہیں۔'
اترپردیش کے غازی پور سے تعلق رکھنے والے اعجاز احمد نے بتایا کہ ان کا منتخب ہونا ان کے علاقے کے لوگوں کے لیے بڑی تحریک ہوگا۔ ان کے علاقے کے طلبہ کہیں گے کہ 'اگر اعجاز کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔'
سنہ 2013 سے سول سروسز میں مسلمانوں کی نمائندگی متواتر بڑھ رہی ہے۔ جبکہ رواں سال ٹاپ 100 میں دس مسلمانوں کی موجودگی کو بہت حوصلہ افزا تصور کیا جا رہا ہے۔