انڈیا میں جج ایک دوسرے کی ذہنی صحت پر شبہ کیوں کر رہے ہیں؟

انڈیا میں عدلیہ ایک غیر معمولی انتشار کے وسط میں کھڑی ہے جس کے نتیجے میں مخالف جج ایک دوسرے کی ذہنی حالت کا معائنہ کرانے کے لیے عدالتی نوٹس جاری کر رہے ہیں۔

بی بی سی کی گیتا پانڈے نے عدلیہ کے ان غیر معمولی واقعات کو بیان کیا ہے۔

گذشتہ کچھ مہینوں سے جسٹس چناس وامے سوامیناتھن کرنان کا جو کہ کلکتہ ہائی کورٹ کے جج ہیں انڈیا کی سپریم کورٹ کے ججوں سے شدید تنازع چل رہا ہے۔

پیر کو یہ معاملہ اس وقت اور شدت اختیار کر گیا جب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جے ایس کیہار سمیت سات ججوں نے یہ حکم دیا کہ جسٹس کرنان کا نفسیاتی معائنہ حکومتی ڈاکٹرز کے پینل سے کروایا جائے جو یہ معلوم کریں کہ کیا وہ دماغی طور پر بیمار ہیں؟

لیکن جواب میں جسٹس کرنان نے ناراض ہو کر ایسا ہی ایک حکمنامہ ان سات اعلیٰ ججوں کے لیے بھی جاری کیا۔

یہ جھگڑا 23 جنوری کو شروع ہوا تھا جب جسٹس کرنان نے وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھا تھا، جس میں 20 'کرپٹ ججوں' اور تین سینئر قانونی افسران کے نام درج تھے۔

اگرچہ وہ اس فہرست میں موجود شخصیات کے بارے میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کر سکے تھے تاہم انھوں نے وزیراعظم مودی سے اصرار کیا تھا کہ ان کے خلاف تحقیقات کی جائیں۔

آٹھ فروری کو سپریم کورٹ کے سات ججوں نے جسٹس کرنان کی جانب سے لکھے گئے خطوط کو توہین عدالت قرار دیا اور ان سے وضاحت طلب کی۔

لیکن تیرہ فروری کو جسٹس کرنان عدالت میں پیش نہیں ہوئے جس کے بعد عدالت نے انھیں ایک اور موقع دیتے ہوئے 10 مارچ کو حاضر ہونے کا حکم دیا۔

لیکن جب وہ 10 مارچ کو بھی حاضر نہ ہوئے تو عدالت نے ان کے قابلِ ضمانت وارنٹ جاری کیے اور مغربی بنگال کے پولیس چیف سے کہا کہ جسٹس کرنان کو 31 مارچ کو عدالت میں پیش کریں۔

انھیں اگلے احکامات تک کام کرنے سے بھی روک دیا گیا لیکن باغی جج نے اس پر عمل نہیں کیا۔

اسی دن جسٹس کرنان نے بھی ایک آڈر پاس کیا۔ انھوں نے سات ججوں پر الزام لگایا کہ انھوں نے ایک دلت سے متعصبانہ رویہ اختیار کیا ہے اس لیے ان کے خلاف کیس درج کیا جائے۔

انھوں نے ججوں سے ہرجانے کے لیے 14 کروڑ لاکھ روپے بھی ادا کرنے کا حکم دیا۔

کچھ ہی روز بعد جب جسٹس کرنان کے وارنٹ ان کے سامنے پیش کیے گئے تو انھوں نے کہا یہ غیر قانونی' اور 'غیر آئینی' ہے۔

گذشتہ جمعے کو جسٹس کرنان نے ملک کے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے چھ ججوں کے بیرونِ ملک جانے پر پابندی عائد کرنے کا حکمنامہ جاری کر کے پورے انڈیا کو حیران کر دیا۔

جسٹس کرنان ہائی کورٹ تو نہیں جا سکتے تاہم انھوں نے گھر میں ہی عدالت لگا رکھی ہے اور انھوں نے ججز کو حکم دیا تھا کہ وہ یکم مئی کو ان کے 'ہوم کورٹ' میں حاضر ہوں یہی وہ تاریخ ہے جب سپریم کورٹ نے جسٹس کرنان کو حاضر ہونے کا حکم دیا تھا۔

ذہنی صحت پر سوالات

اسی روز سپریم کورٹ کے ججوں نے سوال کیا کہ کیا جسٹس کرنان دماغی خرابی کا بہانہ کر رہے ہیں؟ انھوں نے ڈاکٹرز کے پینل سے کہا کہ وہ جسٹس کرنان کا چار مئی کو معائنہ کریں۔

بورڈ سے کہا گیا کہ وہ اپنی رپورٹ آٹھ مئی کو پیش کرے اور پولیس کے ڈائریکٹر جنرل سے کہا گیا کہ وہ طبی معائنہ کرنے میں ڈاکٹرز کی مدد کریں۔

سپریم کورٹ کے ججز کا خیال ہے کہ جسٹس کرنان نے جو کچھ بھی نیوز کانفرنس میں کہا اور جو بھی 'احکامات' جاری کیے ان سے لگتا ہے کہ وہ عدالت میں اپنا دفاع نہیں کر سکیں گے۔

انھوں نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ذہنی طور پر صحت مند ہیں اور ان کی بیوی اور بچے ان کی ذہنی اور جسمانی صحت سے بہت مطمئن ہیں۔

جسٹس کرنان کہتے ہیں کہ عدالتی حکم 'دلت جج کی بے عزتی ہے'، اور وہ طبی معائنہ نہیں کروائیں گے۔

اس کے علاوہ انھوں نے بھی دہلی کے ڈائریکٹر جنرل پولیس کو ہدایت جاری کی کہ وہ سات ججوں کو نفسیاتی معائنے کے لیے بھجوائیں اور اس کی رپورٹ سات مئی کو پیش کریں۔

اب دہلی پولیس ڈی جی پی کے ماتحت نہیں کمشنر کے ماتحت ہے لیکن یہ ایک چھوٹی سی نقطہ چینی ہو گی اس جنگ کے سامنے جو اس وقت انڈیا کی اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کے درمیان جاری ہے۔

جسٹس کرنان کون ہیں؟

باغی رکتا نہیں ہے۔

سنہ 2009 سے چنئی ہائی کورٹ میں اپنے سات سالہ دور میں جسٹس کرنان کے دو ججوں پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ وہ ان کی ذات کی وجہ سے ان سے متعصبانہ برتاؤ کرتے ہیں۔

انھوں نے اپنے ساتھی جج پر یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ انھوں نے ایک انٹرن سے زیادتی کی ہے۔ تاہم یہ دعویٰ بھی ثابت نہیں ہوسکا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق انھوں نے بہت سے مواقع پر کورٹ روم میں ساتھی ججوں کے ساتھ جھگڑا کیا۔ اور سنہ 2014 میں تو حالات اس نہج پر تھے کہ ان کے ساتھی ججوں نے چیف جسٹس آف انڈیا سے کہا کہ وہ جسٹس کرنان کے ساتھ مزید کام نہیں کر سکتے ان کا تبادلہ کر دیا جائے۔

ایک سال پہلے سپریم کورٹ نے جسٹس کرنان کا تبادلہ کلکتہ کردیا تاہم جسٹس کرنان نے ایک حکمنامے جاری کیا اور اپنی ٹرانسفر روک دی۔

پھر اس کے بعد بند کمرے میں اس وقت کے چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر سے ملاقات کے بعد انھوں نے تبادلے کو تسلیم کیا۔

تو پھر اب کیا ہوا ہے؟

کوئی بھی جانتا نہیں ہے۔ انڈیا میں یہ پہلا موقع ہے کہ ملک کی سپریم کورٹ ہائی کورٹ کے حاضر سروس جج کے حلاف کارروائی کر رہی ہے۔

کلینڈر پر اگلی اہم تاریخ چار مئی ہے جب جسٹس کرنان کو نفسیاتی معائنہ کروانا ہے لیکن یہ ان کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں ہوگا۔

قانونی ماہرین توقع کر رہے ہیں کہ کیس کو 12 جون تک کھینچا جائے گا کیونکہ اس روز جسٹس کرنان 62 برس کے ہو کر ریٹائر ہو جائیں گے۔

سپریم کورٹ بھی شاید اس وقت ان کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہو گی۔