'مودی انڈیا کے کمزور ترین وزیر اعظم'

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں دو ہندوستانی فوجیوں کی کٹی پھٹی لاش برآمد ہونے کے بعد مرکزی حکومت پر سخت جوابی کارروائی کے لیے زور ڈالا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر منگل کی صبح سے ہی وزیر اعظم نریندر مودی کو 'انڈیا کے آج تک کے سب سے کمزور وزیر اعظم' کے نام کا ہیش ٹيگ ModiWeakestPMever# گشت کر رہا ہے۔

لوگ اس ہیش ٹیگ کے ساتھ فوجیوں کی لاشوں کے ساتھ کی جانے والی مبینہ بدسلوکیوں پر اپنے غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔

ایک صارف سیمي آہوجا کے نام سے لکھتی ہیں: 'ہاں، بدقسمتی سے مسٹر وزیراعظم، آپ سب سے کمزور وزیر اعظم ہیں۔'

ایک دوسرے صارف سنیل باروپل نے نریندر مودی کا ہندوستان کی سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی سے مقابلہ کرتے ہوئے لکھا: 'بےشک مودی نے انڈیا کی ترقی کے لیے پالیسیاں بنائیں، لیکن قومی سلامتی کے محاذ پر اندرا گاندھی بہتر تھیں۔'

ایک صارف شوم نے ٹویٹ کیا: 'وزیر اعظم صرف ہوائی قلعہ بنا رہے ہیں۔ مودی ایک کمزور وزیر اعظم ہیں اور انڈیا کے لیے شرم کا باعث ہیں۔'

دریں اثنا انڈیا کی جانب سے ماضی میں کی جانے والی مبینہ 'سرجیکل سٹرائکس' کے حوالے سے لوگ منقسم نظر آئے۔

انشومان ڈانڈا لکھتے ہیں: 'ہمارے شہیدوں کی لاشوں کی بے حرمتی کی جا رہی اور ہم اب بھی سرجیکل سٹرائیکس کا راگ الاپ رہے ہیں، اس سے کچھ نہیں ہوتا۔'

اس کے علاوہ وزیر اعظم اور بی جے پی لیڈروں کے پرانے ٹویٹس اور بیانات کو بھی شیئر کیا جا رہا جن میں انھوں نے فوجی جوانوں کے ساتھ ہونے والی مبینہ بربریت پر اس وقت کی یو پی اے حکومت کی سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

نریندر مودی کے سنہ 2013 کے کئی ٹویٹس گشت کر رہے ہیں جس میں انھوں نے سرحد پر رونما ہونے والے واقعات پر اس وقت کی کانگریس حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

ایک صارف نے بی جے پی رہنما ششما سوراج کے چھ اگست سنہ 2013 کے ایک ٹویٹ کے ساتھ لکھا: 'کیا آپ اسے پھر سے ٹویٹ کر سکتی ہیں کیونکہ یہ آج بھی بہت ہی موزوں ہے۔'

اس ٹویٹ میں سشما سوراج نے پانچ انڈین نوجوانوں کی ہلاکت پر اس وقت کی مرکزی حکومت کو کمزور اور فیصلہ کرنے میں نا اہل قرار دیا تھا۔