سعودی عرب سے معاملات طے پا گئے، ایرانی حج کر سکیں گے

سعودی عرب نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے 60 ہزار کے قریب زائرین رواں برس حج میں شرکت کریں گے۔

دونوں ممالک کے تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں جبکہ گذشتہ برس سکیورٹی اور لاجسٹک معاملات پر اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے ایرانی زائرین حج نہیں کر سکے تھے۔

اب دونوں ممالک میں بات چیت کے بعد ایرانی زائرین رواں برس ستمبر میں حج کے لیے سعودی عرب جا سکیں گے۔

سعودی عرب کے سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق سعودی وزارتِ حج اور ایرانی ادارے نے تمام ضروری اقدامات مکمل کر لیے ہیں تاکہ رواں برس ایرانی زائرین حج کر سکیں۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق ایران کے ایک وفد نے سعودی عرب کے وزیر عمرہ و جج ڈاکٹر محمد طاہر بینتن سے ملاقات کی تھی جبکہ مارچ کے شروع میں ایران کا کہنا تھا کہ زیادہ تر معاملات طے پا گئے ہیں جبکہ چند ایک معاملات ابھی حل طلب ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ برس سعودی عرب نے کہا تھا کہ ایران کے'ناقابلِ قبول مطالبات' کی وجہ سے دونوں ملکوں کے مابین حج انتظامات کے حوالے سے معاہدہ طے نہیں پا سکا جبکہ ایرانی وزیر نے حاجیوں کے انتطامات کے معاہدے میں ناکامی کی تمام ذمہ داری سعودی عرب پر عائد کی تھی۔

واضح رہے کہ تہران میں سعودی عرب کا سفارتی عملہ موجود نہیں ہے اور وہ چاہتا تھا کہ ایران شہری حج کے لیے کسی تیسرے ملک سے ویزا کی درخواست دیں۔

جنوری میں سعودی عرب میں معروف شیعہ عالم شیخ نمر النمر کو پھانسی دے جانے کے بعد ایران اور سعودی عرب کے سفارتی تعلقات منقطع ہو گئے تھے۔

تاہم ایران چاہتا تھا کہ سعودی عرب تہران میں قائم سوئٹزرلینڈ کے سفارت خانے کے ذریعے ویزے جاری کرے۔

خیال رہے کہ ایران اور سعودی عرب خطے میں حریف ہیں اور دونوں کے درمیان شام اور یمن کے بحران پر تعلقات پہلے سے کشیدہ تھے اور ان میں مزید تلخی اس وقت آئی جب گذشتہ برس حج کے موقعے پر بھگدڑ مچنے سے سینکڑوں حاجی ہلاک ہو گئے اور ان میں اکثریت ایرانی شہریوں کی تھی۔

گذشتہ برس حج معاہدے میں ناکامی کے بعدایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایک مرتبہ پھر سعودی عرب کو حج کے انتظامات کے حوالے سے شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مسلم اُمّہ سے کہا تھا کہ وہ اسلام کے مقدس ترین مقامات کے انتظامات پر سوال اٹھائیں۔