انڈیا: گوا میں برطانوی خاتون پر جنسی حملہ اور قتل

انڈیا میں سیاحت کے لیے معروف مقام گوا کی پولیس کا کہنا ہے کہ آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والی جس خاتون کی لاش برآمد ہوئی تھی ان پر جنسی حملہ کیا گيا تھا۔

ڈینیئل میكلالن کا تعلق آئرلینڈ سے تھا جو برطانوی پاسپورٹ پر انڈیا سیاحت کے لیے آئی تھیں۔ منگل کے روز ان کی لاش گوا میں كیناکونا کے سیاحتی مقام کے پاس کھلے میدان میں پائی گئی تھی۔

اس سلسلے میں پولیس نے 24 سال کے ایک شخص کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا ہے۔ مذکورہ شخص کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گيا ہے۔

دریں اثنا پولیس کو اس قتل سے قبل کا سی سی ٹی وی فوٹیج بھی مل گئی ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں وہ خاتون ایک مرد کے ساتھ سڑک پر چلتی ہوئی دیکھی جا سکتی ہیں۔

پولیس کا خیال ہے کہ میکلاكلن پر جنسی حملہ کیا گیا تھا۔ ان کے چہرے اور سر پر زخم کے نشانات بھی پائے گئے ہیں۔ ان کی لاش کی شناخت کچھ غیر ملکی سیاحوں کی مدد سے کی گئی تھی۔

ڈینیئل کی ماں ایڈریا برینگن نے اپنی بیٹی کے قتل کی خبر سے صدمے میں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 'سب کو ان کی بیٹی کی بہت یاد آئے گی۔'

گذشتہ برس گوا کی ایک عدالت نے برطانیہ سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان لڑکی سكارلیٹ کیلنگ کے ساتھ جنسی زیادتی اور ان کے قتل کے الزام سے دو افراد کو بری کر دیا تھا۔

15 سالہ کیلنگ کی لاش بھی پراسرار طریقے سے سنہ 2008 میں گوا کے معروف ساحل سمندر انجنا سے برآمد ہوئی تھی۔ پولیس نے اس سلسلے میں دو افراد پر جنسی زیادتی اور قتل کا مقدمہ چلایا تھا لیکن عدالت نے ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے دونوں کو بری کر دیا تھا۔

کیلنگ کی ماں فايونا میكّون کا کہنا ہے کہ ڈینیئل میكا كلن کی موت کی خبر سے وہ بہت افسردہ ہیں۔

انہوں نے کہا: 'یہ بہت خوفناک ہے۔ میں سمجھ سکتی ہوں کہ ان کی ماں پر کیا گزر رہی ہو گی۔'

انڈیا میں بیرونی سیاحوں کے ساتھ جنسی زیادتیاں اور پھر ان کے قتل کے واقعات سے تشویش پائی جاتی ہے۔ اس طرح کے کئي مقدمات اب بھی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔