آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کشمیر:'پیارے جنرل آپ بس خون ہی بہا سکتے ہیں‘
انڈین فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان تصادم کے دوران رخنہ ڈالنے والوں کو شدت پسندوں کا مددگار سمجھا جائےگا۔
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں شدت پسندوں کے ساتھ تصادم میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی میتوں پر پھولوں کا نذرانہ پیش کرنے کے بعد انہوں نے کہا: 'تصادم کے دوران جو لوگ سکیورٹی فورسز کے لیے رکاوٹ پیدا کریں گے اور ان کی مدد نہیں کریں گے انہیں شدت پسندوں کا حامی تصور کیا جائے گا۔'
انہوں نے مزید کہا: 'ہم مقامی لوگوں سے ان لوگوں کی نشاندہی کرنے کے لیے کہیں گے جنہوں نے ہتھیار اٹھا لیے ہیں۔ جو لوگ انتہا پسندی کی حمایت کرتے ہوئے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ اور پاکستان کا پرچم لہرنا جاری رکھیں گے انہیں غدّار سمجھا جائے گا اور انہیں بخشا نہیں جائے گا۔'
جنرل بپن راوت کے بیان پر سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث چھڑ گئی ہے۔ لوگ #BipinRawat اور #kashmir کے ساتھ ٹوئٹر پر اس بیان پر اپنے رد عمل کا اظہار کر رہے ہیں۔
شیخ وسیم گلزار نے لکھا: 'میں نہیں سمجھ پا رہا ہوں کہ لوگوں کو قتل کرنے سے زیادہ سخت چیز اور کیا ہو سکتی ہے؟'
زبیر احمد خان نے لکھا: 'پیارے سپہ سالار، آپ اور کیا بھی کر سکتے ہیں، آپ تو صرف خون ہی بہا سکتے ہیں۔ لیکن اپنے آپ کو آپ امن پسند کہلانا پسند کرتے ہیں۔'
ِچل سوار نامی ایک ٹوئٹر ہینڈل نے فوجی سربراہ کے بیان کی حمایت کی ہے۔ اس ہینڈل نے ٹویٹ کیا ہے:'ہم آپ کی حمایت کرتے ہیں۔ فوج کو سنگ بازوں اور غداروں کے خلاف سختی سے کام لینا چاہیے۔ ان کے ساتھ رحم دلی کا سلوک نہ کریں۔'
ارپت نے ٹویٹ کیا: 'انتہا پسندوں کی حمایت کرنے والوں کے خلاف اقدامات کرنے کا وقت آ گیا ہے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سوشانت گوئل نے ٹویٹ کیا: 'جو کشمیری شدت پسندوں کی مدد کریں گے وہ اب غدار کہلائیں گے۔ باغوں میں بہار ہے۔۔۔ پیلیٹ گن تیار ہے۔'