آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا: کیجریوال کا خالصتانی رہنما کے گھر پر قیام کرنے پر تنازع
انڈیا کی ریاست پنجاب کے اسبملی انتخابات کی مہم کے دوران عام آدمی پارٹی کے رہنما اور دلی کے وزير اعلیٰ اروند کیجریوال خالصتان کمانڈو فورس (کے سی ایف) کے ایک رکن کے گھر پر قیام کیا جس پر ان کے مخالفین ان پر شدید نکتہ چینی کر رہے ہیں۔
کیجریوال نے پنجاب کی علیحدگی پسند تحریک سے وابستہ سابق 'انتہا پسند' گروندر سنگھ کی کوٹھی پر قیام کیا تھا۔
اس واقعے کے بعد سے اپوزیشن جماعتیں ان پر نکتہ چینی کر رہی ہیں۔
ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ سکھبیر سنگھ بادل اور کانگریس پارٹی کے ریاستی صدر کیپٹن امرندر سنگھ نے کیجریوال کو ریاست پنجاب کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر عام آدمی پارٹی پنجاب میں اقتدار میں آ جاتی ہے تو وہاں انتہا پسندی دوبارہ پنپ سکتی ہے۔
ہندو تخت کے سربراہ مہنت پچاند گری نے گروندر سنگھ کی کوٹھی میں قیام کرنے پر اروند کیجریوال سے وضاحت طلب کی ہے۔
لیکن پنجاب میں عام آدمی پارٹی کے کنوینر گروپريت سنگھ وڑیج نے کہا ہے کہ گروندر سنگھ کا اب کسی بھی شدت پسند گروپ یا ملک مخالف عناصر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
باگا پرانا کے پولیس افسر سکھدیو سنگھ تھد کا کہنا ہے کہ گروندر سنگھ کے خلاف نو جولائی 1997 میں قتل کے لیے دفعہ 302، 307 اور آرمز ایکٹ کے تحت کیس درج کیا گيا تھا۔ ان پر ایک مندر میں بم رکھنے کا الزام تھا جہاں ہونے والے دھماکے میں ایک شخص کی ہلاکت ہو گئی تھی اور ایک خاتون زخمی ہوئی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کیس میں ایک دوسرے شخص بھوپندر سنگھ کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی اور گروندر سنگھ عدالت سے بری ہو گئے تھے۔
اروند کیجریوال پر لگنے والے الزامات کو عام آدمی پارٹی کے رہمنا سنجے سنگھ نے یکسر مسترد کر دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کیجریوال جس گروندر سنگھ گھالی کے مکان پر ٹھہرے تھے وہ انگلینڈ کے شہری ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 'موگا میں ان کے خلاف جو مقدمات درج ہوئے تھے ان میں وہ بری ہو چکے ہیں۔ اس واقعے کے وقت گروندر انگلینڈ میں تھے۔ اس معاملے میں ان کا نام بعد میں شامل کیا گیا تھا۔'
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ جس گھر میں اروند کیجریوال ٹھہرے تھے وہ گروندر کی اہلیہ كرمجيت کور کے نام ہے۔
سنجے سنگھ نے کہا کہ اگر گروندر سنگھ دہشت گرد تھے تو پنجاب کی پولیس نے اس کی اطلاع کیوں نہیں دی کیونکہ وہیں پنجاب پولیس کے دو افسر رہتے ہیں۔
ریاست پنجاب میں سنیچر کو ووٹ ڈالے جائیں گے لیکن پولنگ سے عین قبل 'دہشت گردی' اور 'خالصتانی' جیسے الفاظ دوبارہ گونج رہے ہیں۔
انتخابات میں ایک بار پھر سیاسی جماعتوں کے درمیان خالصتانی علیحدگی پسندوں سے رابطہ رکھنے کے تعلق سے الزام تراشیوں کا دور شروع ہو گیا ہے۔