نوٹوں کی بندش کے بعد انڈیا کا پہلا بجٹ

    • مصنف, مرزا اے بی بیگ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

انڈیا کے وزیر خزانہ ارون جیٹلی بدھ کو وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کا چوتھا بجٹ پیش کر رہے ہیں۔

گذشتہ سال آٹھ نومبر کو دو بڑے کرنسی نوٹ (ہزار اور 500 کے نوٹ) پر پابندی کے بعد یہ بجٹ تمام تر توجہ کا مرکز ہے۔

ملک کے تمام سرکردہ ماہر معاشیات کا خیال ہے نوٹ بندی کے بعد مجموعی ملکی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے اور بجٹ میں ممکنہ طور پر اس کے تدارک کی کوشش ہوگی۔

اس بجٹ کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ آزاد ہندوستان میں پہلی بار ریلوے بجٹ علیحدہ طور پر پیش نہیں کیا جا رہا ہے اور یہ ارون جیٹلی کے ذریعے پیش کیے جانے والے بجٹ کا ہی حصہ ہوگا۔

اطلاعات کے مطابق بجٹ کے پیش کیے جانے کے بعد دونوں ایوان کو دن بھر کے لیے منسوخ کردیا جائے گا۔

اس بجٹ کے بارے میں یہ بھی خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سروس ٹیکس میں اضافہ ہو سکتا ہے اور ڈیجیٹل یا آن لائن کاروبار پر زیادہ زور دیے جانے کا بھی امکان ہے تاکہ حکومت کی جانب سے کیش لیس معیشت کی کوششوں کو تقویت دی جا سکے۔

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ بجٹ میں ہاؤسنگ سکیم کو فروغ دینے کے لیے شرح سود میں کمی کے امکانات بھی ہیں۔

کارپوریٹ ٹیکس میں اصلاحات کے بھی امکانات روشن ہیں کیونکہ وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے کارپوریٹ ٹیکس میں مرحلہ وار کمی کا وعدہ کر رکھا ہے۔

انڈیا کے دو بڑے کرنسی نوٹوں پر پابندی کے نتیجے میں کئی پیداوار اور زراعت کے شعبے متاثر ہوئے ہیں۔ اس لیے یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ حکومت ان کی جانب اپنی توجہ مرکوز کرے گی۔