’ماؤنٹ ایورسٹ کی پیمائش میں انڈیا شامل نہیں ہوگا‘

ماؤنٹ ایورسٹ

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکچھ سائنسدانوں کا خیال ہے شاید ماؤنٹ ایورسٹ کی بلندی میں کمی آئی ہے

نیپال کا کہنا ہے کہ ماؤنٹ ایورسٹ کی دوبارہ پیمائش کے لیے مہم میں انڈیا کے حکام کی شمولیت کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

نیپال کے سروے ڈیپارٹمنٹ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ملک نے انڈیا کی شمولیت کی حامی نہیں بھری، جوکہ سروے آف انڈیا کے دعوے کے برعکس ہے۔

اعلیٰ اہلکار کا کہنا تھا کہ نیپال ماؤنٹ ایورسٹ کی پیمائش خود کرنا چاہتا ہے۔

اس سے قبل سروے آف انڈیا نے اعلان کیا تھا کہ دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کی دوبارہ پیمائش کے ذریعے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ آیا دو سال قبل نیپال میں آنے والے زلزلے سے اس کی اونچائی میں کوئی تبدیلی آئی ہے یا نہیں۔

سرویئر جنرل سورنا سوابا راؤ کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے آئندہ دو ماہ میں ایک مہم نیپال اور چین کی سرحد پر واقع اس چوٹی پر بھیجی جائے گی۔

کچھ سائنسدانوں کے مطابق یہ ممکن ہے کہ دو سال قبل نیپال میں آنے والے 7.8 شدت کے زلزلے کے بعد ماؤنٹ ایورسٹ کی بلندی میں کمی آئی ہو، تاہم بعض کا خیال ہے کہ اس میں اضافہ ہوا ہے۔

ماؤنٹ ایورسٹ

،تصویر کا ذریعہAFP

اس سے پہلے چین کی ایک سرکاری رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ یہ پہاڑ اس زلزلے کے بعد جنوب مغرب کی جانب کم از کم تین سینٹی میٹر سرکا ہے۔

اس کی بلندی 8848 میٹر یعنی 29028 فٹ بتائی جاتی ہے، جو 62 سال قبل انڈین سروے میں بتائی گئی تھی۔

انڈین سرویئر جنرل کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ اس کی پیمائش کے لیے زمینی سروے اور جی پی ایس کی مدد درکار ہوگی تاکہ اس پہاڑ میں چند سینٹی میٹر کی بھی کسی ممکنہ تبدیلی کو ناپا جاسکے گا۔

ماؤنٹ ایورسٹ

،تصویر کا ذریعہAFP