انڈیا: سکول بس کے حادثے میں کم از کم 15 بچے ہلاک ہوگئے

انڈیا کی ریاست اتر پردیش کے ضلع ایٹہ کے علاقے علی گنج میں جمعرات کی صبح ہونے والے ایک حادثے میں کم از کم 15 بچے ہلاک اور تقریباً 45 شدید زخمی ہو گئے۔

انڈين میڈیا اور ٹی وی چینلز کے مطابق اس حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد تقریباً 25 ہے۔

اسدپور نامی گاؤں میں ایک ٹرک اور بچوں کو سکول لے جانی والی بس کی آمنے سامنے سے ٹکّر ہوگئی جس کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آيا۔

ایٹہ کے ایڈیشنل پولیس سپرنٹنڈنٹ بسرجن سنگھ یادو نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جائے حادثہ پر ہی دس بچے ہلاک ہوگئے تھے جبکہ زخمی ہونے والے دیگر درجنوں بچوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔ بس میں سوار ہونے والے بچوں کی عمر چار سے 11 سال کے درمیان بتائی جا رہی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق صبح آٹھ بجے شدید دھند کی وجہ سے یہ حادثہ ہوا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے اس حادثے پر گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے۔ ان کی جانب سے ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ 'اس المناک حادثے سے انھیں شدید تکلیف پہنچی ہے۔'

دارالحکومت لکھنؤ میں پولیس کےایک سینیئر ترجمان راہل شری واستو نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 15 بتائی ہے۔ ان کے مطابق حادثے میں تقریباً 45 افراد زخمی ہوئے ہیں اور ان میں سے 14 شدید زخمی ہیں۔

فی الحال تمام زخمیوں کو ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس حادثے میں بس کا ڈرائیور بھی موقع پر ہی ہلاک ہو گيا۔

کہرے اور دھند کی وجہ سے ضلعی انتظامیہ نے 21 تاریخ تک سکولوں کو بند رکھنے کا حکم دیا تھا لیکن اس کے باوجود سکول کیوں کھلا تھا، اس پر بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔

انڈیا ایک ایسا ملک ہے جہاں عالمی سطح پر سب سے زیادہ سڑک حادثے ہوتے ہیں اور تقریبا ہر چار منٹ میں ایک حادثہ پیش آتا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2015 میں 1،46000 افراد سڑک حادثے میں ہلاک ہوئے تھے۔

ماہرین کے مطابق اس طرح کے بیشتر حادثات بغیر احتیاط کی ڈرائیونگ، خراب سڑکوں اور پرانی گاڑیوں کے استعمال کی وجہ سے پیش آتے ہیں۔