سبز آنکھوں والی شربت گلہ نئی زندگی کی تلاش میں

    • مصنف, داؤد اعظمی
    • عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس، کابل

سنہ1985 میں نیشنل جیوگرافک کے سرورق سے شہرت حاصل کرنے والی افغان خاتون شربت گلہ کا کہنا ہے کہ پاکستان سے ملک بدری کے بعد وہ اب افغانستان میں ایک نئی زندگی شروع کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

اپنے پانچ سالہ بیٹے اور تین بیٹیوں کے ساتھ کابل میں رہائش پذیر شربت گلہ نے بی بی سی سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ ایک طویل عرصہ کٹھن وقت گزارنے کے بعد وہ اب سکون کی زندگی جینا چاہتی ہیں۔

دس سال کی عمر میں شربت گلہ کی لی گئی ایک تصویر نے دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کی اور 1980 کی دہائی میں افغان جنگ متاثرین کے حوالے سے مثال بن گئی تھی۔

شربت گلہ کے خاندان کے مطابق انھوں نے صرف ایک دفعہ، سنہ 2002 میں میڈیا سے گفتگو کی تھی جب نیشنل جیوگرافک کے فوٹوگرافر سٹیو مک کری ان پر ڈاکیومینٹری بنا رہے تھے۔

سٹیو مک کری وہی فوٹوگرافر تھے جنھوں نے وہ شہرہ آفاق تصویر کھینچی تھی اور بعد میں شربت گلہ کو ڈھونڈنے کے لیے دوبارہ پاکستان آئے تھے۔

شربت گلہ کو تقریباً 17 سال تک اس بات کا کوئی اندازہ نہیں تھا کہ ان کی تصویر دنیا بھر میں شہرت حاصل کرچکی ہے۔

افغان جنگ سے بچنے کے لیے اپنے ہزاروں ہم وطنوں کی طرح شربت گلہ بھی پاکستان منتقل ہو گئی تھیں اور وہاں 35 سال تک رہیں۔ لیکن پچھلے سال حکومت پاکستان نے ان کو غیر قانونی طور پر پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کرنے کے جرم میں دو ہفتے قید رکھا اور اس کے بعد ملک بدر کر دیا۔

کابل میں اپنی عارضی رہائش گاہ سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شربت گلہ نے بتایا کہ: ’ہم نے پاکستان میں اچھا وقت گزارا تھا۔ ہمارے ہمسائے بھی اچھے تھے اور ہم پشتون برادری کے ساتھ ہی رہ رہے تھے۔ لیکن مجھے اندازہ نہیں تھا کہ پاکستانی میرے ساتھ ایسا برتاؤ کریں گے۔‘

شربت گلہ کے کیس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تارکین وطن، پناہ گزینوں اور ان افغان باشندوں کی جبری ملک بدری کے مسئلے کو مزید تقویت دی۔

1970 کی دہائی سے رائج پاکستان قوانین کے مطابق غیر ملکی باشندوں کے لیے پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کرنا غیر قانونی ہے لیکن عمومی طور پر اس قانون کی پاسداری نہیں ہوتی۔

45 سال کے لگ بھگ، بیماری اور کمزوری کے باوجود شربت گلہ کی سبز آنکھیں اتنی ہی یادگار اور چبھتی ہوئی ہیں جتنی آج سے 32 سال پہلے تھیں۔ لیکن اب ان آنکھوں میں خوف اور امید کی دونوں کیفیت یکساں طور پر نمایاں ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ وہ پاکستان میں اپنا گھر پہلے ہی اس ڈر سے بیچ چکی تھیں کہ کہیں ان کو قانونی دستاویزات نہ ہونے کی بنا پر گرفتار کر لیا جائے۔

لیکن افغانستان جانے سے دو دن قبل ان کے گھر پر چھاپہ مار کر پولیس ان کو حراست میں لے لیا۔

پاکستانی حکومت نے حکم دیا تھا کہ 20 لاکھ افغان پناہ گزین ملک چھوڑ کر چلے جائیں۔ شربت گلہ کو یقین ہے کہ پاکستانی حکومت چاہتی ہی یہی تھی کہ ان کو جانے سے پہلے گرفتار کر لیا جائے۔

’میں نے پولیس کو بتایا کہ میں نے شناختی کارڈ صرف دو وجہ سے بنایا ہے۔ ایک اپنے بچوں کو پڑھانے کے لیے، اور دوسرا اپنے گھر کو بیچنے کے لیے جو کہ میں شناختی کارڈ کے بغیر نہیں کر سکتی تھی۔‘

گرفتاری کے بعد 15 دن کے لیے شربت گلہ کو جیل کی سزا ہوئی جس میں سے پہلا ہفتہ انھوں نے جیل میں گزارا جبکہ اگلا ہفتہ ہسپتال میں جہاں ان کا ہیپاٹائٹس سی کا علاج کیا گیا۔

شربت گلہ نے کہا کہ ’یہ میری زندگی کا سب سے برا اور مشکل ترین وقت تھا۔‘

عالمی بدنامی کے ڈر سے پاکستان نے شربت گلہ کو ملک میں رکنے کی پیشکش کی لیکن انھوں نے اس کو مسترد کر دیا۔

’میں نے ان کو کہا کہ میں اب اپنے وطن واپس جا رہی ہوں۔ میں نے ان کو بولا کے آپ نے مجھے 35 سال یہاں رہنے کی جگہ دی لیکن آخر میں ایسا سلوک کیا۔ بس بہت ہو چکا ہے اب۔‘

شربت گلہ کے شوہر اور ان کی سب سے بڑی بیٹی کی موت پشاور میں ہی ہوئی تھی اور وہیں دفن ہیں۔

’اگر میں کبھی واپس گئی تو وہ صرف اپنے شوہر اور بیٹی کی قبر پر فاتحہ پڑھنے جاؤں گی جو میرے پشاور والے گھر کے سامنے دفن ہیں۔‘

جب سنہ 1985 میں شربت گلہ کی تصویر نیشنل جیوگرافک کے سرورق کی زینت بنی تو اس وقت ان کی عمر دس سال تھی اور وہ سکول کی طالبہ تھیں۔

ایک طویل عرصہ تک ان کو اپنی تصویر کی شہرت کا کوئی اندازہ نہیں تھا۔

’جب میرے بھائی نے مجھے تصویر دکھائی تو میں نے خود کو پہچان لیا۔‘

تو شربت گلہ کو تصویر دیکھ کر کیسا محسوس ہوا؟

’میں بہت حیران ہوئی تھی کیونکہ مجھے بچپن سے ہی میڈیا نہیں پسند اور نہ ہی میں تصویریں کھنچوانا پسند کرتی ہوں۔ پہلے مجھے تصویر کی شہرت سے کچھ پریشانی تھی لیکن جب یہ معلوم ہوا کہ اس کی مدد سے پناہ گزینوں کے لیے کتنی مدد ہوئی ہے تو مجھے بہت خوشی ہوئی۔‘

شربت گلہ کی کسی بھی اولاد کی ان کی طرح سبز آنکھیں نہیں ہیں۔ لیکن ان کے بھائی کاشر خان اور ایک بہن کی آنکھیں ان ہی کی طرح ہیں۔

شربت گلہ کے مطابق ان کی نانی کی آنکھیں بھی سبز تھیں۔

سنہ 1979 میں شربت گلہ افغانستان کے ننگرہار صوبے کے علاقے کوٹ میں اپنے خاندان کے ساتھ رہائش پذیر تھیں جب سویت یونین کی فوجوں نے افغانستان پر چڑھائی کردی تھی۔

’جب روسیوں اور افغان فوجوں کے بیچ میں لڑائی شروع ہوئی تو ہم نے ملک چھوڑ دیا۔ اس جنگ سے بہت بربادی ہوئی تھی۔‘

جنگ شروع ہونے کے بعد شربت گلہ اور ان کے خاندان نے پشاور کے باہر پناہ گزینوں کے لیے قائم کیے گیے کچا گڑہی کیمپ میں رہائش اختیار کر لی اور جب وہ 13 برس کی ہوئیں تو ان کی شادی ہو گئی۔

پانچ برس قبل شربت گلہ کے شوہر رحمت گل ہیپاٹائیٹس سی کے وجہ سے فوت ہو گئے اور تین سال قبل ان کی بڑی بیٹی بھی اسی مرض کے ہاتھوں انتقال کر گئیں۔

افغانستان واپسی کے بعد شربت گلہ نے افغان صدر اشرف غنی سے صدارتی محل میں ملاقات کی اور اس کے بعد انہوں نے سابق صدر حامد کرزائی سے بھی ملاقات کی۔

’مجھے ان دونوں نے بہت عزت دی اور بہت اچھے طریقے سے ملے۔ اللہ ان کو خوش رکھے۔‘

افغان حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ شربت گلہ کی مالی امداد کرے گی اور ان کو کابل میں گھر بھی خرید کر دے گی۔

’میں بس امید کرتی ہوں کے حکومت اپنے وعدے کو پورا کرے۔‘

کوٹ کا علاقہ خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کا گڑھ ہے جس کی وجہ سے شربت گلہ اپنے گاؤں واپس نہیں جا سکتیں۔

’ہم حالات کی وجہ سے اپنے گاؤں بھی نہیں جا سکتے اور جلال آباد میں ہمارے لیے کوئی محفوظ جگہ بھی نہیں ہے۔ ہماری زندگی بس ایک مسلسل کڑا امتحان ہے۔‘

لیکن اب شربت گلہ کی اولین ترجیح اپنی صحت بہتر کرنااور اپنے بچوں کو بہتر تعلیم دلانا ہے تاکہ وہ ایک اچھی زندگی گزار سکیں۔

’میں ایک خیراتی ہسپتال شروع کرنا چاہتی ہوں جہاں تمام غریبوں، یتیموں اور بیواؤں کا علاج ہو سکے۔ میں اپنے ملک میں امن چاہتی ہوں تاکہ دوبارہ کوئی بے گھر نہ ہو۔ بس خدا میرے وطن کے حال پر رحم کرے۔‘