آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
تو کیسے گزر رہی ہے زندگی کیش لیس انڈیا میں؟
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
انڈیا میں بینکوں کے باہر قطاریں بدستور قائم ہیں، (مخصوص مقامات پر بھی) پانچ سو کے پرانے نوٹ جمعے کی شام تک استعمال کیے جاسکیں گے، نئے نوٹ ندارد ہیں، کیرالہ میں ایک بینک نے نئی کرنسی کی کمی کی وجہ سے اپنی کچھ شاخیں بند کردی ہیں، اتر پردیش کے کئی شہروں میں لوگوں نے بینکوں کے ملازمین کو اپنے غصے کا نشانہ بنایا ہے اور ریڈیو پر بس ایک ہی پیغام سنائی دے رہا ہے: انڈیا ایک کیش لیس نظام کی طرف بڑھ رہا ہے اور یہ کام مشکل نہیں ہے، کوئی بھی کرسکتا۔
یہ سب مانتے ہیں کہ کیش لیس نظام سے ترقی کی رفتار تیز ہوگی لیکن حکمراں بی جے پی کے علاوہ یہ مشکل سے ہی کوئی مانتا ہے کہ یہ کام عنقریب ممکن ہے۔
بینکوں سے رقم نکالنے پر پابندیاں بدستور جاری ہیں، امیروں کو ہفتے میں 24 ہزار روپے نکالنے کی اجازت ہے لیکن بینک اپنی طرف سے بھی نئی حدیں قائم کرر ہے ہیں۔ کوئی دس ہزار دے رہا ہے تو کوئی چار، کرنسی کم ہے اور شاید ان کی کوشش یہ ہے کہ سب کو کچھ مل جائے لیکن امیروں کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ انھیں پیسے کیوں چاہیئں۔
غریبوں کو اپنے جن دھن کھاتوں سے دس ہزار روپے ماہانہ نکالنے کی اجازت ہے، اس سے زیادہ چاہیے تو انھیں بینک کو بتانا ہوگا کہ کیوں اور بینک کو اس کا باقاعدہ ریکارڈ رکھنا ہوگا۔
یہ جن دھن کھاتے انتہائی مفلسی میں زندگی گزارنے والوں کو بینکنگ سسٹم میں شامل کرنے کے لیے کھلوائے گئے تھے اور حکومت کو خطرہ ہے کہ ان کھاتوں کو کچھ امیر لوگ پرانی کرنسی نئی میں بدلنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
بڑے نوٹ بند ہوئے تین ہفتے ہو چکے ہیں، وزیر اعظم نے 50 دن کا وقت مانگا تھا لیکن اب یہ لگ رہا ہے کہ اتنی جلدی حالات میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئے گی، حکومت کے چھاپے خانوں میں دن رات نوٹ چھاپے جارہے ہیں، لیکن یہ سوا ارب کا ملک ہے یہاں ہر کام میں وقت لگتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سابق وزیراعظم من موہن سنگھ کے مطابق ترقی کی رفتار دو فیصد (پوائنٹس) کم ہوسکتی ہے، ایچ ایس بی سی اور فچ جیسے اداروں کا خیال ہے کہ یہ نقصان ایک فیصد سے نصف فیصد تک ہو سکتا ہے۔ فوربس میگزین میں چھپنے والے ایک مضمون کے مطابق سچ یہ ہے کہ آگے کیا ہوگا، کسی کو نہیں معلوم۔
نوٹوں کے بغیر زندگی
اور اس سب کے دوران لوگ بغیر کیش کے زندگی گزارنا سیکھ رہے ہیں۔ بازار میں چھوٹے نوٹ نہیں ہیں اس لیے بہت سے دکاندار ٹوکن جاری کر رہے ہیں جنھیں آپ بعد میں بھنا سکتے ہیں، کچھ لوگ سامان نوٹ کے حساب سے خرید رہے ہیں، کچھ ان لوگوں کو کارڈ سے خریداری کرا رہے ہیں جنہوں نے کیش لیس کی دوڑ میں بھاگنا شروع نہیں کیا ہے لیکن بڑی تعداد میں لوگ اب تھک چکے ہیں۔
حکومت نے ایک نیا قانون وضع کیا ہے جس کےتحت لوگ اگر رضاکارانہ طور پر کالا دھن بنکوں میں جمع کرا دیں تو تقریباً 50 فیصد ٹیکس دے کر ان کی جان چھوٹ سکتی ہے۔ کچھ کے لیے تو یہ اچھی خبر ہے لیکن کچھ کا اعتراض ہے کہ اگر یہ کالے دھن کے خلاف کارروائی ہے تو کالے دھن والوں کو فرار کا راستہ نہیں دیا جانا چاہیے تھا۔
پرانے کو نئے میں بدلنے کا ریکٹ پورے زور شور سے جاری ہے، کسی کو چونا لگ رہا ہے اور کوئی لگا رہا ہے۔
بینکوں میں نو لاکھ کروڑ روپے جمع کرائے جاچکے ہیں یعنی ختم کی جانے والی آدھی سے زیادہ کرنسی بنکنگ کے نظام میں واپس آچکی ہے اور ایک رپورٹ کے مطابق نوے سے پچانوے فیصد کرنسی بنکوں میں جمع کرائی جاسکتی ہے۔
اب حکومت کو فکر یہ ہوگی کہ جیسے ہی پابندیاں ہٹائی جائیں گی، لوگ اپنا پیسہ واپس نکالنے کی کوشش کریں گے، انکم ٹیکس کے اہلکاروں کے لیے بھی یہ بہت بڑا چیلنج ہے، جن کھاتوں میں ڈھائی لاکھ روپے سے زیادہ جمع کرائے گئے ہیں ان کی تفتیش ہوگی اور اس کام میں بہت وقت لگے گا۔
عام شکایت یہ ہے کہ حکومت نے پوری تیاری کے بغیر یہ قدم اٹھایا ہے، کیش لیس نظام کسی جامع پالیسی کا انجام تو ہوسکتی ہے، آغاز نہیں۔